پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کے ہزاروں سرکاری سکولوں میں بجلی کی بنیادی سہولت نہ ہونے کا تشویشناک انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صوبے کے مجموعی 34 ہزار 784 سرکاری سکولوں میں سے 3 ہزار 796 سکول بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، جو کہ کل تعداد کا 11 فیصد سے زائد بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مانسہرہ 202 بجلی سے محروم سکولوں کے ساتھ سر فہرست ہے، جبکہ کوہستان بالا کے 191، جنوبی وزیرستان بالا کے 124، بٹگرام کے 117، کوہستان زیریں کے 92، کولئی پالس کے 89، بنوں کے 66، مہمند کے 55 اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 53 سرکاری سکولوں میں بھی بجلی میسر نہیں ہے۔
ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع کی صورتحال:
-
ضم شدہ اضلاع: ضم شدہ اضلاع میں بجلی سے محروم سکولوں کی شرح آباد اضلاع کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ یہاں مجموعی 6 ہزار 223 سکولوں میں سے 2 ہزار 183 (تقریباً 35 فیصد) سکول بجلی سے محروم ہیں۔
-
بندوبستی اضلاع: بندوبستی اضلاع کے 27 ہزار 679 سکولوں میں سے 1 ہزار 613 (یعنی 5.8 فیصد) سکولوں میں بجلی موجود نہیں ہے۔
بنیادی سطح (پرائمری) کے سکول زیادہ متاثر:
اعداد و شمار کے مطابق بنیادی سطح پر صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ صوبے کے 2 ہزار 213 بوائز پرائمری سکول اور 1 ہزار 85 گرلز پرائمری سکول بجلی سے محروم ہیں۔
ضم شدہ اضلاع میں بجلی نہ ہونے کے لحاط سے جنوبی وزیرستان بالا کے 124، باجوڑ کے 91، سب ڈویژن وزیر (بنوں) کے 75، مہمند کے 55، اورکزئی کے 51 اور کرم کے 33 سکول شامل ہیں جہاں طلبہ و طالبات بجلی جیسی بنیادی سہولت کے بغیر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

