سندھ ،نجی سکولوں کے نتائج پر تشویش، اساتذہ کی کارکردگی جانچنے اور کمزور طلبہ کے لیے ریمیڈیل کلاسز کا حکم

حکومتِ سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں میں تعلیمی معیار کی بہتری اور اساتذہ کی کارکردگی کے مؤثر جائزے کے لیے نئے اقدامات پر مبنی اہم ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز پروفیسر رفیعہ ملاح کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے میں جہاں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے معیاری تعلیم کے فروغ اور قومی و بین الاقوامی شعبوں کے لیے قابل طلبہ تیار کرنے کے کردار کو سراہا گیا ہے، وہاں بعض نجی اسکولوں کے مایوس کن امتحانی نتائج پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

میٹرک، او اور اے لیول کے نتائج تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش

مراسلے کے مطابق متعدد نجی اسکولوں کے طلبہ کے ثانوی تعلیمی بورڈز کے میٹرک امتحانات، جی سی ای او لیول اور اے لیول کے نتائج تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش پائے گئے ہیں۔ کئی طلبہ یا تو ان امتحانات میں ناکام ہو جاتے ہیں یا پھر توقعات سے کہیں کم نمبر حاصل کرتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال والدین کی جانب سے ادا کی جانے والی بھاری فیسوں اور ان کی معیاری تعلیم کی توقعات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔

تدریسی معیار اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات

ڈائریکٹوریٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ کمزور نتائج اسکولوں کے تدریسی معیار، کلاس روم کی تدریس، اساتذہ کی جوابدہی اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ مراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض اداروں میں تدریسی معیار کی نگرانی اور اساتذہ کی کارکردگی کو جانچنے کا کوئی مؤثر خودکار نظام موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے خامیوں کی بروقت نشاندہی اور ان کا ازالہ نہیں ہو پاتا۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے نجی اسکولوں کے لیے لازمی ہدایا:

محکمہ تعلیم نے صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو بغیر کسی استثنا کے درج ذیل اقدامات پر فوری عمل درآمد کا پابند بنایا ہے

  • کمزور طلبہ کے لیے ریمیڈیل کلاسز: تعلیمی طور پر کمزور طلبہ کی بروقت شناخت کر کے ان کے لیے اضافی تدریسی معاونت، ریمیڈیل کلاسز انفرادی رہنمائی اور مسلسل تعلیمی جائزے کا نظام قائم کیا جائے۔
  • والدین سے باقاعدہ رابطہ: طلبہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مشاورت اور والدین کے ساتھ مستقل رابطے کا مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ سرکاری امتحانات میں نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔
  • اہل اساتذہ کا تعین: اس بات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کہ اسکولوں میں تعینات تمام اساتذہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ اسناد اور موزوں تدریسی تجربہ رکھتے ہوں۔

ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے تمام اسکول انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ نجی شعبے میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کو سہارا دیا جا سکے اور والدین کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

مستحق طلبہ کو 10 فیصد کوٹے پر داخلہ نہ دینے کا معاملہ، سینیٹ کمیٹی کا قانونی جنگ لڑنے کا اعلان

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ…

5 hours ago

صوبے بھر میں ایچی سن کالج کے معیار کے نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی منظوری

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) حکومتِ پنجاب نے صوبے کے طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی…

15 hours ago

تعلیمی اداروں میں خواتین کی ہراسگی پر خاموشی ناقابل قبول،سپریم کورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو…

4 days ago

’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان

پنجاب میں تعلیم دوست اقدام: ’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے…

4 days ago

جعلی تعلیمی اسناد پر گریڈ 19 کا افسر برطرف، تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر…

4 days ago

کے پی کے پبلک سروس کمیشن امتحان میں ڈیجیٹل نقل کی کوشش ناکام،پانچ گرفتار

پشاور (ایجوکیشن رپورٹر) خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے سیکنڈری سکول ٹیچر کے…

4 days ago