سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، نجی اسکولوں میں کتابیں اور یونیفارم بیچنے پر مکمل پابندی
کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) حکومتِ سندھ نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے اسکول کی حدود میں نصاب، اسٹیشنری اور یونیفارم کی فروخت پر فی الفور پابندی عائد کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے اہم نکات
محکمہ تعلیم (ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق:
- فروخت پر پابندی: کوئی بھی نجی اسکول انتظامیہ اسکول کے اندر کتابیں، کاپیاں یا یونیفارم نہیں بیچ سکے گی۔
- خریداری کی آزادی: والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے خریداری کے لیے مجبور کرنا قانونی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
- بک لسٹ کی فراہمی: اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی سال کے آغاز پر نصابی کتب اور اسٹیشنری کی مکمل لسٹ والدین کو دیں تاکہ وہ کھلی مارکیٹ سے خریداری کر سکیں۔
- مونوگرام کا معاملہ: اسکول کے مونوگرام والی مخصوص نوٹ بکس خریدنے پر اصرار کرنا بھی غیر قانونی ہوگا۔
خلاف ورزی پر سخت سزا
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کو درج ذیل کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
- بھاری جرمانہ۔
- اسکول کی رجسٹریشن کی منسوخی۔
سماجی حلقوں اور والدین کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے اسکولوں کی “اجارہ داری” ختم ہوگی اور تعلیمی اخراجات میں شفافیت آئے گی۔

