اہم ترین

جنوبی وزیرستان لوئیر میں کرفیو کیخلاف طلبہ کا مظاہرہ، نرمی کا مطالبہ

پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی...

گورنر ہاوس کراچی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب

کراچی (خبر نگار / این این آئی) وزیراعظم یوتھ...

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

طورخم بارڈر کی بندش, پاکستانی افغانستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم سینکڑوں پاکستانی طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا، احتجاجی لہر برقرار

طورخم بارڈر کی بندش: پاکستانی میڈیکل طلبہ کا مستقبل خطرے میں، احتجاجی لہر برقرار

جمرود (نمائندہ ) پاک افغان سرحد طورخم پر گزشتہ دو تین روز سے پاکستانی میڈیکل طلبہ کی ایک بڑی تعداد سراپا احتجاج ہے۔ سرحد کی بندش کے باعث افغانستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم سینکڑوں پاکستانی طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

احتجاج کی وجوہات اور طلبہ کا مؤقف

افغانستان کی جلال آباد آریانہ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم نور الحق آفریدی اور دیگر مظاہرین نے بتایا کہ وہ کسی شوق کی بنا پر نہیں بلکہ شدید مجبوری میں احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

  • امتحانات کا آغاز: جلال آباد میں میڈیکل امتحانات 4 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں، جبکہ کابل میں کلاسز گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہیں۔
  • تعلیمی نقصان: بارڈر کی بندش کی وجہ سے طلبہ نہ صرف امتحانات سے محرومی کے خطرے سے دوچار ہیں بلکہ ان کا قیمتی تعلیمی وقت بھی ضائع ہو رہا ہے۔
  • مالی و ذہنی دباؤ: احتجاج میں شریک طلبہ نے بتایا کہ ان میں سے اکثر مالی طور پر کمزور ہیں اور بارڈر کی بندش کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ، سفری مشکلات اور اضافی اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکومتوں سے اپیل

طلبہ کا کہنا تھا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی یا انتظامی مسائل کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:

"انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے طورخم بارڈر کو صرف طلبہ کے لیے کھولا جائے تاکہ وہ بروقت اپنے امتحانات میں شریک ہو سکیں۔”