پشاور (یونیورسٹی رپورٹر) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز فپواسا خیبر پختونخوا کا ایک ہنگامی جنرل باڈی اجلاس گزشتہ روز صوبائی صدر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی تمام سرکاری جامعات کی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے یونیورسٹی ملازمین کے لیے ڈسپیرٹی ریڈکشن الائنس اور دیگر الائونسز کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ سینٹرلائزڈ سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا یونیورسٹی ملازمین کو 2021 میں منظور شدہ 25 فیصد، 2025 میں 15 فیصد اور 2026 میں 15 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاوئنس کے تمام بقایاجات متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشنز کی تاریخ سے فوری طور پر ادا کرے۔ اجلاس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 2026 میں سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے منظور کیا گیا ہاؤس ریکوزیشن الائنس بلاامتیاز یونیورسٹی ملازمین کو بھی دیا جائے،
جبکہ پی ایچ ڈی الائونس کو موجودہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کیا جائے۔ فپواسا نے مزید مطالبہ کیا کہ ٹیچنگ الائونس کو موجودہ بنیادی تنخواہوں سے منسلک کرتے ہوئے ازسرِنو مقرر کیا جائے۔ جنرل باڈی نے واضح کیا کہ یونیورسٹی ملازمین کے کسی بھی جائز اور قانونی الائونس میں کمی یا اس کے خاتمے کی کسی بھی تجویز کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں حکومتِ خیبر پختونخوا اور متعلقہ کمیٹی کو خبردار کیا گیا کہ اگر یونیورسٹی ملازمین کے کسی بھی جائز الائونس کو ختم یا کم کرنے کی کوشش کی گئی، یا فپواسا کے جائز مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، تو تنظیم اپنے آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا اعلان کرے گی جس میں عدالت کا رخ کرنا اور احتجاجی تحریک شامل ہو سکتی ہے۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا اوورسیز اور انٹرنیشنل طلبہ کے لیے آن لائن داخلوں کا…
جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کے لیے انٹرویوز کا سلسلہ 9 جولائی سے شروع…
خیبرپختونخوا میں نئے اساتذہ کے لیے ’انڈکشن ٹریننگ پروگرام فیز 5‘ کا باقاعدہ آغاز، 16…
معاملہ اہم مرحلے میں داخل؛ وی سیز، پولیس و دیگر متعلقہ اداروں کی سفارشات پر…
شدید گرمی میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے پر طلبہ کی صحت خطرات سے دوچار، ریگولیٹری…
کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان نے صوبے کے سرد علاقوں (ونٹر زون) کے…