اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

لائبہ اعجاز کیس، ایجنٹ نے 72 نہیں93 لاکھ روپے کا فراڈ کیا،ایف آئی اے

اسلام آباد (خبر نگار) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے کیس کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ ملزمان نے باہمی ملی  بھگت سے لائبہ اعجاز سے مجموعی طور پر

93 لاکھ روپے وصول کیے۔
ترجمان نے بتایا کہ مقدمہ لائبہ اعجاز کے ماموں کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 109 اور امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 شامل کی گئی ہیں۔
جعلی دستاویزات اور مالی فراڈ کی تفصیلات ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق

لائبہ اعجاز کیس، مقدمہ درج، ایف آئی آر سیل، ملزم نعمان گرفتار

دھوکہ دہی کا طریقہ کار: ملزمان نے امریکہ کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے رقم وصول کی اور طالبہ کو اعتماد میں رکھنے کے لیے جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس کی جعلی رسیدیں تیار کیں۔

رقم کی ادائیگی متاثرہ خاندان کی جانب سے 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے جبکہ بقایا رقم نقد صورت میں ملزمان کو ادا کی گئی۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی اس سنگین مالی دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات اور شدید ذہنی اذیت کے نتیجے میں ہونہار طالبہ لائبہ اعجاز کا انتقال ہوا۔ معاملے کی مزید شفاف تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔