اسلام آباد (کرائم رپورٹر) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے مبینہ خودکشی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ایف آئی آر سیل کر دی ہے، جبکہ ایجنٹ بن کر 72 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے والے مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو فراڈ میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔
وزیراعظم کا طالبہ کی خودکشی کا نوٹس،مرحومہ کیساتھ فراڈ کرنے والے کی فوری گرفتاری کا حکم
ایف آئی اے کی تحقیقات اور ملزم کے سنسنی خیز انکشافات ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد ندیم کے مطابق معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور ادارے نے اس پر باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم نعمان انتہائی شاطر ہے جو کبھی خود کو سپریم کورٹ کا ملازم تو کبھی کسی اہم سرکاری ادارے کا افسر ظاہر کرتا تھا
بیرون ملک تعلیم کے نام پر فراڈ ملزم نے لائبہ کو امریکہ کی نامور ‘ہارورڈ یونیورسٹی’ میں داخلے کا جھانسہ دے کر
72 لاکھ روپے ہڑپ کر لیے۔
خاندان سے مزید وصولی ملزم نے طالبہ کے بھائی کو سرکاری نوکری دلوانے کے نام پر بھی 5 لاکھ روپے وصول کر رکھے تھے۔
گیارہویں جماعت کے داخلوں کی تاریخ میں توسیع، نظرثانی شدہ شیڈول جاری
سرپرائز کا خواب جو ادھورا رہا لائبہ نے 12 اکتوبر کو ہارورڈ میں ایڈمیشن کی خبر کا سرپرائز اپنی فیملی کو دینا تھا، لیکن دو روز قبل جب اس نے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تصدیق کروائی تو وہ مکمل جعلی نکلا۔
ماموں کو آخری پیغام اور غم ناک انجام لائبہ نے شدید ذہنی دباؤ کے عالم میں دنیا سے رخصت ہونے سے قبل اپنے ماموں کو آخری میسج بھیجا، جس میں التجا کی گئی تھی کہ”اس کے والد کو اس فراڈ کا پتہ نہ چلے، وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے”
یاد رہے کہ اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ہونہار طالبہ لائبہ کی پھندا لگی لاش گزشتہ روز اسلام آباد میں سڑک کنارے سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد سے پورے ملک میں تعلیمی فراڈ کرنے والے ایجنٹوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔