اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی 472 شکایات، 53 فیکلٹی ارکان اور 19 طلبا فارغ

خیبر پختونخواہ میں بھی تعلیمی اداروں سے ہراسگی سے متعلق تفصیلات طلب کی لی گئیں

پشاور (نیوز رپورٹر) صوبے کے تعلیمی اداروں، بالخصوص جامعات میں ہراسگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمارکے

مطابق ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں ہراسگی کے مجموعی طور پر 472 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے اب تک 45 کیسز کو منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا ہے۔

سخت تادیبی کارروائیاں: رپورٹ کے مطابق الزامات ثابت ہونے پر اب تک مختلف یونیورسٹیوں سے 53 فیکلٹی ممبران اور 19 طلبا کو فارغ کیا جا چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پشاور یونیورسٹی اور ملاکنڈ یونیورسٹی سمیت خیبر پختونخوا کی تمام جامعات سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ ہر کیس کی نوعیت، ہونے والی تحقیقات اور دی جانے والی سزا کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔

شفافیت پر سوالات: ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں پشاور کی مختلف یونیورسٹیوں میں ہراسگی کے متعدد کیسز کی تحقیقات تو کی گئیں، تاہم بعد ازاں ان کی رپورٹس مبینہ طور پر دبا دی گئیں، جس سے ادارہ جاتی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن کی بعض جامعات میں بھی ایسے ہی کیسز سامنے آنے کے بعد متعدد ملازمین کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔

تعلیمی ماحول پر اثرات: ان واقعات کے باعث طالبات میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور کئی طالبات نے جامعات کو خیرباد کہہ دیا ہے، جس سے تعلیمی ماحول اور طالبات کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے بی ایس سسٹم کے حوالے سے بھی تحفظات اور شکایات میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے۔