اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری، چیئرمین تعلیمی بورڈ بنوں کی تقرری کالعدم، 3 ماہ میں میرٹ پر نئی تعیناتی کا حکم

پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: چیئرمین تعلیمی بورڈ بنوں کی تقرری کالعدم، 3 ماہ میں میرٹ پر نئی تعیناتی کا حکم

پشاور (جنرل رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے تعلیمی نظام میں شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے۔ جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بینچ نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو سخت ہدایت کی ہے کہ مذکورہ اسامی کے لیے دوبارہ اشتہار جاری کیا جائے اور اگلے 3 ماہ کے اندر اندر مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر نئی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔

عدالتی فیصلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیئرمین کی تقرری کے لیے بنائی گئی فہرست میں چوتھے نمبر پر آنے والے افسر کو غیر قانونی طریقے سے شامل کر کے نوازا گیا، جو کہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات بھی قانون کے تابع ہونے چاہئیں اور کسی بھی عوامی عہدے پر تقرری میں میرٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ جب تک مستقل چیئرمین کا انتخاب نہیں ہو جاتا، تب تک بورڈ کے امور چلانے کے لیے عارضی انتظامات کیے جائیں اور مقررہ مدت کے اندر شفاف طریقے سے اس عمل کو مکمل کیا جائے۔