spot_img

ذات صلة

جمع

پنجاب کے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ

سپیشل رپورٹر

لاہور: پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے تحت امتحانی نظام میں تاریخی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس سے صوبے بھر کے تقریباً 50 لاکھ طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ ان نئے اقدامات کا مقصد امتحانات کے طریقہ کار کو شفاف بنانا اور طلبہ کے لیے یکساں تعلیمی معیار قائم کرنا ہے۔

چیئرمین ٹاسک فورس برائے امتحانات مزمل محمود کے مطابق، آئندہ امتحانات میں پنجاب کے تمام بورڈز کے لیے پیپر پیٹرن، سیکریسی اور سوالیہ پیپرز میں ڈیفکٹی لیول کا معیار بالکل ایک جیسا رکھا جائے گا۔

نئے نظام کے نمایاں خد و خال:

  • یکساں معیارِ امتحانات: آزاد اور ریگولر طور پر پرچہ دینے والے تمام طلبہ کے لیے سوالات کی مشکل اور معیار کا تناسب اب پورے پنجاب میں یکساں ہوگا۔

  • آن اسکرین مارکنگ اور ری چیکنگ: اساتذہ اب طلبہ کے پرچوں کی مارکنگ ڈیجیٹل انداز میں (آن اسکرین) کریں گے، جس سے نہ صرف نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ طلبہ کو پرچے کی ری چیکنگ کے لیے بھی آن لائن سہولت میسر ہوگی۔

  • بہتر نتائج اور نمبروں کا حصول: ربرکس (Rubrics) کا معیار بہتر طریقے سے طے کرنے سے طلبہ کو اردو اور انگریزی جیسے مضامین میں بھی سو فیصد تک نمبر حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

  • خصوصی سیکریسی ڈیپارٹمنٹ: امتحانات میں مکمل رازداری اور سیکریسی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک الگ سے باقاعدہ محکمہ تشکیل دیا جائے گا۔

  • نتائج کا مستقل شیڈول: اصلاحات کے تحت اب پنجاب کے تمام بورڈز میں انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت) کے سالانہ نتائج ہر سال باقاعدگی سے اگست کے دوسرے ہفتے میں جاری کیے جایا کریں گے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے نہ صرف مارکنگ کا پرانا اور پیچیدہ نظام بہتر ہوگا بلکہ صوبے بھر کے طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع اور شفاف نتائج کی سہولت بھی مل سکے گی۔