Categories: بریکنگ نیوز

پنجاب یونیورسٹی سینڈیکیٹ اجلاس میں ممبران کی مخالفت کے باوجود معطل چیف انجینر کوبحال کر دیا گیا یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین کا اظہار افسوس

پنجاب یونیورسٹی  سینڈیکیٹ میں روزنامہ خبریں کی گونج ، اجلاس میں کرپشن  اور مخالفت کے باوجود  معطل چیف انجینر بحال  کر دیا گیا  یونیورسٹی اساتذہ  اور ملازمین  کا اظہار افسوس ، اجلاس میں مالی سال 27-2026  بجٹ سفارشات، طلباؤ طالبات کو10 ارب روپے کی سکالرشپس، سبسڈی ملے گی

یونیورسٹی کا بجٹ خسارہ گزشتہ سال کی نسبت کم ہو کر 2.2 ارب سے کم ہو کر 1.6 ارب روپے پر آ گیا

لاہور ( سپیشل رپورٹر) گزشتہ روز کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے سینڈیکیٹ اجلاس میں روزنامہ خبریں کی گزشتہ روز معطل  چیف انجینئر فیض الحسن سپرا کے حوالے سے خبر کی گونج سنائی دی گئی  اور سینڈیکیٹ کے ممبران کی شدید مخالفت اور  معطل چیف انجینئر  کی انکوائری  کمیٹی  پر  انکوائری بوگس اور جانبد ارآنہ ہونے کے  الزامات بھی لگائے گئے اور ذرائع کے مطابق بعض ممبران نے دوبارہ انکوائری کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی سے کرپٹ عناصر کیخلاف کڑے احتساب کا مطالبہ کیا  لیکن اسکے باوجود  معطل چیف انجینئر کو بحال کر دیا گیا  روزنامہ خبریں میں گزشتہ روز شائع ہونے والی خبر  من و عن درست ثابت ہوئی 

جس کے بعد یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین میں مایوسی پھیل گئی ہے   پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا 1761واں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مالی سال 27-2026 کے لیے یونیورسٹی کے بجٹ تخمینوں کا جائزہ لیا گیا۔ سنڈیکیٹ نے پنجاب یونیورسٹی کی سینیٹ کو 20.87 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری کی سفارش کر دی۔مالی سال 27-2026 کے دوران پنجاب  یونیورسٹی حکومتی ذرائع، اپنے وسائل اور دیگر ذرائع سے آن کیمپس طلبا ء و طالبات کو 10 ارب روپے مالیت کی سبسڈی اور وظائف فراہم کرے گی تاکہ معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو معیاری و اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی ہدایات پر سنڈیکیٹ نے طلبہ اور ان کے والدین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے وظائف اور سبسڈیز میں مزید اضافے کی سفارش کی اور یونیورسٹی نے اپنے وسائل سے وظائف کی مدمیں 341 ملین روپے مختص کیے ہیں۔اس کے علاوہ طلبہ کوہونہار اسکالرشپ پروگرام،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مختلف اسکالرشپ پروگرامز اورپنجاب ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فنڈ (پیف) کے تحت بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی مالی اصلاحات کے نتیجے میں پنجاب یونیورسٹی کے بجٹ خسارے میں پہلی مرتبہ نمایاں کمی آئی ہے۔

مالی سال 26-2025 کے دوران بجٹ خسارہ کم ہو کر 1.6 ارب روپے رہ گیاہے، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ 2.2 ارب روپے تھا۔سنڈیکیٹ کے اراکین نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کفایت شعاری کی پالیسی اور مؤثر مالی نظم و نسق کو سراہا۔ وائس چانسلر کی ہدایات پر سنڈیکیٹ نے تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی میں مزید بہتری اور قومی سماجی و معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے والی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے 284 ملین روپے کے ریسرچ گرانٹس مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ

آئندہ چند برسوں میں یونیورسٹی کا بجٹ خسارہ مکمل طورپر ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی قرضوں پرانحصار کرنے کے بجائے اپنے مالی وسائل اور آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کرنے کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے انڈاؤمنٹ فنڈ کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کو حکومت پنجاب کی جانب سے 786 ملین روپے کی گرانٹ بھی موصول ہوگی۔مجوزہ بجٹ کی نمایاں خصوصیات کے مطابق خصوصی طلبہ کو بدستورمفت تعلیم اور مفت ہاسٹل رہائش فراہم کی جائے گی،

جبکہ اسپورٹس کوٹہ پر داخلہ لینے والے طلبہ کو بھی مفت تعلیم کی سہولت حاصل ہوگی۔ اسی طرح حفاظِ قرآن کے لیے ٹیوشن فیس میں چھوٹ برقرار رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ طلبہ کو تعلیم، رہائش، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر فلاحی سہولیات کی مد میں اربوں روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی جاتی رہے گی۔سنڈیکیٹ نے اجلاس میں سلیکشن بورڈ اور دیگر مختلف قانونی و انتظامی اداروں کی سفارشات کی بھی منظوری دے دی۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

پانچویں اور آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2027؛ پیکٹا کا طلبہ کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کا اعلان

* تمام رجسٹریشن سرکاری اسکولوں کے آفیشل لاگ اِن کے ذریعے ہوگی؛ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز…

5 hours ago

لاہور، 135 سرکاری سکولوں کی خطرناک عمارتوں کی فوری تعمیر و مرمت کا کام گرمیوں کی چھٹیوں میں مکمل کرنے کا ہدف

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور میں 135 سرکاری سکولوں کی خطرناک اور شدید خستہ…

5 hours ago

لاہور، پرائیویٹ سکولوں کے سروے میں تاخیر پر اساتذہ کو ذمہ داریاں تفویض، 324 غیر رجسٹرڈ سکول سیل

* لاہور میں 14 ہزار میں سے صرف 6 ہزار سکولوں کا آن لائن سروے…

6 hours ago

امتحانی نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات اور ‘آن لائن اسکرین مارکنگ’ متعارف کرانے کا فیصلہ

* بوٹی مافیا، نقل اور بدعنوان عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی،…

6 hours ago