spot_img

ذات صلة

جمع

جی سی یو ، منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک کمی

جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز...

یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن آن لائن کلاسز کا حکم

پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور...

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا...

افغانستان میں پھنسے مزید 110 پاکستانی طلباء وطن واپس پہنچ گئے

جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے...

پیپر لیک کرنے والوں کی اب خیر نہیں, 3 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا مقرر

پیپر لیک کرنے والوں کی اب خیر نہیں؛ 3 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا مقرر، 27 مارچ سے ایکشن شروع

لاہور (تعلیمی رپورٹر) محکمہ تعلیم نے میٹرک امتحانات کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے تاریخی اور سخت ترین اقدامات کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب سوالیہ پرچہ لیک کرنے یا امتحان کے دوران اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے کو 3 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

27 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک امتحانات، جن میں 2 لاکھ 75 ہزار طلباء شرکت کر رہے ہیں، کے لیے تمام امتحانی مراکز میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق امتحانی مراکز کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں اور پولیس کی مدد بھی لی جائے گی

۔ اگر کوئی استاد یا عملے کا رکن نقل کروانے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEDA Act) کے تحت کارروائی ہوگی، 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا اور آئندہ امتحانی ڈیوٹی پر تاحیات پابندی لگ سکتی ہے۔ امتحانی مراکز میں موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز لانا مکمل ممنوع ہوگا

اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر سخت پابندی ہوگی۔ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا پیپر آؤٹ کرنے کی صورت میں موقع پر گرفتاری اور فوری مقدمہ درج کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں

۔امتحانی اصلاحات اور سزائیں: ایک نظر میںجرم / خلاف ورزیسزا / کارروائیسوالیہ پیپر لیک کرنا3 سال قید اور بھاری جرمانہ سوشل میڈیا پر پیپر اپ لوڈ کرنافوری مقدمہ اور قانونی کارروائی اساتذہ کی جانب سے نقل کروانا50 ہزار جرمانہ اور پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی امتحانی میٹریل غائب کرناسخت قانونی چارہ جوئی موبائل فون کا استعمال ضبطگی اور مرکز سے بے دخل