اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں ایم آر آئی کے دوران لڑکی سے مبینہ ہراسانی، ہنگامہ آرائی اور سی ای او پر تشدد، متعدد افراد گرفتار

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر)
ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال (اوجھا کیمپس) میں ایم آر آئی اسکین کے دوران ایک  خاتون/لڑکی سے مبینہ ہراسانی کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد اسپتال کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی، لڑائی جھگڑا اور تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ مظاہرین اور اہل خانہ کی جانب سے اسپتال انتظامیہ پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

واقعے کے تفصیلی حقائق
تفصیلات کے مطابق، پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک لڑکی اپنے ایم آر آئی اسکین کے لیے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال اوجھا کیمپس آئی تھی۔ اسکیننگ کے عمل کے دوران لڑکی نے ایم آر آئی ٹیکنیشن پر مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی لڑکی کے اہل خانہ شدید اشتعال میں آ گئے اور انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے تلخ کلامی اور احتجاج شروع کر دیا۔

کلاس روم سے لے کر کائنات تک، سندھ میں بڑے پیمانے پر سکولوں میں STREAM فیسٹیولز کے انعقاد کا فیصلہ

معاملے کو رفع دفع کرنے اور شکایت دہندہ کا موقف سننے کے لیے اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) بابر خان بذاتِ خود موقع پر پہنچے۔ تاہم، گفتگو کے دوران صورتحال اچانک قابو سے باہر ہو گئی اور مشتعل افراد نے اسپتال کے افسران، دیگر عملے اور سیکیورٹی گارڈز پر حملہ کر دیا اور ہاتھا پائی شروع کر دی۔ اس تشدد کے نتیجے میں ڈاؤ کے سی او او بابر خان شدید زخمی ہو گئے۔

پولیس کی کارروائی اور مقدمہ درج
واقعے اور تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی۔ سچل تھانے میں اسپتال انتظامیہ کی مدعیت میں سی او او بابر خان اور عملے پر تشدد کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث چند مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ٹیکنیشن بھی پولیس حراست میں
دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ لڑکی کی جانب سے عائد کیے گئے مبینہ ہراسانی کے الزام کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے متعلقہ ایم آر آئی ٹیکنیشن کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش چاہتے ہیں تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے باریک بینی کے ساتھ تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی فٹیج و شواہد کی روشنی میں حتمی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔