تہذیب کی تاریخ درحقیقت علم، شعور اور فکر کی تاریخ ہے، اور اس تاریخ کے ہر روشن باب میں ایک خاموش مگر نہایت مؤثر کردار “کتاب” کا رہا ہے۔ کتاب محض اوراق کامجموعہ نہیں بلکہ یہ انسانی تجربات، مشاہدات،احساسات اور افکار کا وہ خزانہ ہےجو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور معاشروں کی فکری بنیادوں کو مضبوط بناتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ جن اقوام نے کتاب سےاپنا رشتہ مضبوط رکھا، وہ علم، تحقیق اور ترقی کے میدان میں نمایاں رہیں،
جبکہ جن معاشروں نےکتاب سے دوری اختیارکی، وہ فکری انحطاط اور علمی زوال کا شکار ہوگئے،کتاب دوستی دراصل ایک شعوری رویہ ہے، ایک ایسی فکری وابستگی جو انسان کو علم کی تلاش، حقیقت کی جستجو اور شعور کی بلندی کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ علمی عمل ہے، جو انسان کے ذہن کو جلا بخشتا ہے، اسکے خیالات کو وسعت دیتا ہے اور اسکے اندر تنقیدی شعور کو بیدار کرتا ہے۔ ایک قاری دراصل ایک زندہ اور متحرک ذہن کا حامل ہوتا ہے،
جو محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ ان پر غور و فکر کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے اور حقیقت تک رسائی کی کوشش کرتا ہے۔مطالعہ انسان کی فکری تربیت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو محدود سوچ سے نکال کر ایک وسیع تر کائناتی نقطۂ نظر عطا کرتا ہے۔ کتابوں کے ذریعے انسان مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور نظریات سے آشنا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اسکے اندر برداشت، رواداری اور فکری وسعت پیدا ہوتی ہے۔ اسی مطالعہ کی بدولت انسان میں تحقیق کا جذبہ بیدار ہوتا ہے
اور وہ محض تقلید کے بجائے تخلیق کی طرف مائل ہوتا ہے۔علمی دنیا میں جتنی بھی بڑی ایجادات اور تحقیقات ہوئی ہیں، ان کی بنیاد مطالعہ اور کتاب ہی رہی ہے۔دنیاوی سطح پر بھی کتاب دوستی کے بے شمار فوائد ہیں۔ جو افراد مطالعہ کے عادی ہوتے ہیں، ان میں فیصلہ سازی کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، وہ مؤثر انداز میں بات کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں اورپیشہ ورانہ زندگی میں زیادہ کامیاب ثابت ہوتے ہیں
ایک مطالعہ کرنے والا معاشرہ نہ صرف علمی طور پر مضبوط ہوتا ہے بلکہ معاشی طور پر بھی ترقی کرتا ہے، کیونکہ باشعور افراد بہتر فیصلے کرتے ہیں اور اجتماعی ترقی میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح کتابیں انسان میں اخلاقی شعور بھی پیدا کرتی ہیں، جو ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔کتاب انسان کی روحانی اور فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ انسان کو اپنے وجود، اپنی حقیقت اور اپنے مقصدِ حیات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مطالعہ انسان میں عاجزی، خود احتسابی اور توازن پیدا کرتا ہے،جو ایک مکمل اور متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ ایک سچا قاری نہ صرف دنیا کو سمجھتا ہے
بلکہ خود کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔اگر پاکستان کے تناظر میں کتاب کلچر کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کسی حد تک تشویشناک نظر آتی ہے۔ اگرچہ یہ ملک علمی اور فکری صلاحیتوں سے مالا مال ہے، مگر مطالعہ کی عادت بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہے۔جدیدٹیکنالوجی، موبائل فون اور سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے،وہیں گہرے مطالعہ کی روایت کو بھی متاثر کیا ہے۔ نوجوان نسل کا رجحان مختصر اور سطحی معلومات کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں فکری گہرائی اور علمی سنجیدگی متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان میں کتب خانوں کی تعداد کے حوالے سے عمومی اندازہ یہی ہے کہ ملک بھر میں تقریباً تین سے چار ہزار کے درمیان مختلف نوعیت کی لائبریریاں موجود ہیں، جن میں پبلک، تعلیمی اور خصوصی کتب خانے شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے ایک بڑی تعداد یا تو غیر فعال ہے یا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ دیہی علاقوں میں تو صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں لائبریریوں کی کمی کے باعث لوگوں کو مطالعہ کے مواقع ہی میسر نہیں آتے۔
شہری علاقوں میں موجود لائبریریاں بھی اکثر وسائل کی کمی،جدیدٹیکنالوجی کے فقدان اور قارئین کو متوجہ کرنے والے پروگراموں کی عدم موجودگی کاشکار ہیں۔نظریاتی طور پر لائبریریاں کسی بھی معاشرے کی فکری ترقی کا مرکز ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف علم کی فراہمی کاذریعہ ہیں بلکہ تحقیق، تخلیق اور مکالمے کا بھی اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں کچھ بڑی لائبریریاں اب بھی علمی سرگرمیوں کا مرکز ہیں، مگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پبلک لائبریریاں اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کردار ادا نہیں کر رہیں۔ اسکی بڑی وجوہات میں حکومتی عدم توجہی، بجٹ کی کمی اور پالیسی سازی کا فقدان شامل ہیں۔
حکومتی سطح پر کتاب کلچر کے فروغ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات کتاب میلوں اور ادبی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، مگر یہ اقدامات تسلسل کے بغیر دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر جدید سہولیات سے آراستہ لائبریریاں قائم کی جائیں، ڈیجیٹل لائبریری نظام کو فروغ دیا جائے اور تعلیمی اداروں میں مطالعہ کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ کتابوں کی قیمتوں کو کم کرنے اور مقامی مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں
۔سول سوسائٹی اور نجی ادارے بھی اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بعض تنظیمیں موبائل لائبریریوں، فری بک بینکس اور ریڈنگ پروگرامز کے ذریعے کتاب کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، مگر ان کو قومی سطح پر وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔کتاب کلچر کے فروغ میں ہر فرد کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔
ہمیں بطور فرد مطالعہ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، بچوں میں کتاب سے محبت پیدا کرنی ہوگی اور سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا ہوگا۔ گھروں میں چھوٹی سطح پر لائبریریاں قائم کرنا، بچوں کو کہانیاں سنانا اور انہیں کتابیں تحفے میں دینا ایسے اقدامات ہیں جو ایک مضبوط کتاب کلچر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں ہر سال 23 اپریل کو دنیا بھر میں “کتاب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن” منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کتاب کی اہمیت کواجاگرکرنا، مصنفین اور تخلیق کاروں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور مطالعہ کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔اس دن کے انتخاب کی ایک دلچسپ تاریخی حیثیت بھی ہے،کیونکہ 23اپریل 1616ء کو عالمی ادب کی تین عظیم شخصیات،یعنی ولیم شیکسپیئر، میگل ڈی سروینٹس اور انکا گارسیلاسو ڈی لا ویگا کا انتقال ہوا۔
اسی نسبت سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 1995ء میں اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد نہ صرف کتابوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ قارئین، مصنفین اور ناشرین کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا بھی ہے،
تاکہ علم کی ترسیل کا یہ سلسلہ جاری رہے۔اگر ہم بحیثیت قوم کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کر لیں تو نہ صرف ہمارا علمی معیار بلند ہو سکتا ہے بلکہ ہم ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ کتاب دراصل ایک ایسا خاموش استاد ہے جو بغیر کسی صلے کے ہمیں علم، شعور اور بصیرت عطا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس استاد کی قدر کریں اور اپنی زندگیوں میں اسکے لیے جگہ پیداکریں۔اخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ اس کے تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور مطالعہ کے کلچر سے ہو کر گزرتا ہے۔
اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور مہذب قوموں کی صف میں شامل ہونا ہے تو اسے کتاب سے اپنا رشتہ دوبارہ استوار کرنا ہوگا۔ یہ صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ایک تہذیبی تقاضا ہے، جس کی تکمیل کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ کتاب دوستی کا زوال اور پبلک لائبریریوں سے علمی طبقے کی دوری: وجوہات اور تدارک موجودہ دور میں کتاب دوستی کا تصور اپنی اصل روح سے کسی حد تک محروم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
جہاں کبھی مطالعہ کو فکری بالیدگی، شعوری ارتقاء اور تہذیبی استحکام کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا تھا، وہیں آج یہ رجحان زیادہ تر عملی ضرورتوں، خصوصاً ملازمت کے حصول تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پبلک لائبریریوں میں بظاہر جو رش نظر آتا ہے، اس کا بڑا حصہ مقابلہ جاتی امتحانات، بالخصوص سول سروسز کی تیاری کرنے والے طلبہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ رجحان اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے
کہ سنجیدہ قاری، محققین، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور علمی و تحقیقی میدان سے وابستہ افراد کی پبلک لائبریریوں میں موجودگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔یہ صورتحال محض ایک اتفاقی یا وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ متعدد گہرے سماجی، تعلیمی اور ادارہ جاتی عوامل کارفرما ہیں، جن کا سنجیدہ تجزیہ اور تدارک ناگزیر ہے۔سب سے پہلی اور بنیادی وجہ پبلک لائبریریوں کا تحقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔
جدید دور میں تحقیق کا میدان تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ چکا ہے، جہاں عالمی جرنلز، آن لائن ڈیٹا بیسز، ریسرچ پورٹلز اور ای-لائبریریز بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی اکثر پبلک لائبریریاں اب بھی روایتی انداز میں کام کر رہی ہیں، جہاں جدید تحقیقی مواد، ڈیجیٹل رسائی اور اپڈیٹڈ وسائل کا فقدان ہے۔ نتیجتاً محققین اور پروفیشنلز اپنی ضروریات کیلئے یونیورسٹی لائبریریوں یا آن لائن ذرائع کا رخ کرتے ہیں
۔دوسری اہم وجہ لائبریریوں کے ماحول اور سہولیات کا غیر معیاری ہونا ہے۔ ایک سنجیدہ قاری یا محقق کو ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو سکون، یکسوئی اور تحقیقی مزاج سے ہم آہنگ ہو۔ مگر اکثر پبلک لائبریریاں نہ تو اس معیار کا ماحول فراہم کر پاتی ہیں اور نہ ہی وہاں جدید سہولیات، جیسے تیز رفتار انٹرنیٹ، ریسرچ سپورٹ سروسز یا گروپ اسٹڈی اسپیسز موجود ہوتی ہیں۔
تیسری وجہ ادارہ جاتی سطح پر وژن اور پالیسی کا فقدان ہے۔ پبلک لائبریریوں کو محض کتابوں کے ذخیرے تک محدود سمجھا جاتا ہے، جبکہ جدید دنیا میں لائبریریاں “علمی مراکز” (Knowledge Hubs) کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اس تصور کو ابھی تک عملی طور پر اپنایا نہیں جا سکا، جس کے باعث لائبریریاں اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہیں۔
چوتھی اہم وجہ تعلیمی نظام کی ساخت ہے، جو طلبہ کو تحقیق، تنقیدی سوچ اور آزاد مطالعہ کی بجائے محض امتحان پاس کرنے تک محدود رکھتا ہے۔ جب تعلیمی نظام ہی تحقیق اور مطالعہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا، تو بعد ازاں پیشہ ورانہ زندگی میں بھی افراد کا لائبریریوں سے تعلق کمزور ہی رہے گا۔پانچویں وجہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر ہے۔
اگرچہ یہ ذرائع معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتے ہیں، مگر ان کی وجہ سے گہرے اور سنجیدہ مطالعہ کی روایت متاثر ہو رہی ہے۔ لوگ مختصر، سطحی اور فوری معلومات کے عادی ہو چکے ہیں، جس کے باعث لائبریری جیسی سنجیدہ علمی فضا ان کے لیے کم کشش رکھتی ہے۔تدارک اور اصلاحی حکمتِ عملی اس مسئلے کا حل محض وقتی اقدامات سے ممکن نہیں
بلکہ ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا متقاضی ہے۔سب سے پہلے پبلک لائبریریوں کو ڈیجیٹل اور ہائبرڈ ماڈل کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ جدید ای-ریسورسز، آن لائن جرنلز، ڈیٹا بیسز اور ریسرچ پورٹلز تک رسائی فراہم کی جائے، تاکہ محققین اور پروفیشنلز اپنی ضروریات کے مطابق مواد حاصل کر سکیں۔
دوسرا اہم قدم لائبریریوں کو ریسرچ سپورٹ سینٹرز میں تبدیل کرنا ہے۔
یہاں تربیت یافتہ لائبریرینز موجود ہوں جو نہ صرف معلومات کی فراہمی کریں بلکہ ریسرچ گائیڈنس، انفارمیشن لٹریسی اور ڈیٹا مینجمنٹ میں بھی معاونت فراہم کریں۔تیسرا، لائبریریوں کے انفراسٹرکچر اور ماحول کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ پرسکون اسٹڈی ایریاز، ڈیجیٹل لیبز، گروپ ڈسکشن رومز اور آرام دہ نشستوں کا انتظام کیا جائے، تاکہ علمی طبقہ یہاں وقت گزارنے کوتر جیح دے۔چوتھا، تعلیمی اداروں اور لائبریریوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں۔
یونیورسٹیوں، کالجوں اور ریسرچ انسٹیٹیوشنز کے ساتھ اشتراک کے ذریعے مشترکہ پروگرامز،سیمینارزاور ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے۔پانچواں، پالیسی سازی اور بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ لائبریریوں کو تعلیمی ترقی کا مرکزی ستون تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے مستقل اور مؤثر پالیسی وضع کرے، اور مناسب فنڈز مختص کرے۔
چھٹا، کتاب کلچر کے فروغ کے لیے معاشرتی سطح پر شعور بیدار کیا جائے۔
میڈیا، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کریں اور اسےایک مثبت سماجی رویہ بنانے کی کوشش کریں۔یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ کسی بھی معاشرے کی فکری اور علمی ترقی کا دارومدار اس کے مطالعہ کلچر اور لائبریری نظام پر ہوتا ہے۔ اگر پبلک لائبریریاں محض امتحان کی تیاری کا مرکز بن کر رہ جائیں اور سنجیدہ علمی طبقہ ان سے دور ہو جائے تو یہ ایک خطرناک فکری خلا کی علامت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لائبریریوں کو ان کی اصل حیثیت، یعنی “مرکزِ علم و تحقیق” کے طور پر بحال کریں، تاکہ یہ نہ صرف طلبہ بلکہ محققین، اساتذہ اور پروفیشنلز کے لیے بھی ایک پرکشش اور مؤثر علمی پلیٹ فارم بن سکیں۔ بصورتِ دیگر، کتاب دوستی کا یہ محدود تصور ہماری فکری ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنتا رہے گا۔ تاہم اس سارے منظرنامے کا سب سے تکلیف دہ اور توجہ طلب پہلو یہ ہے
کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں، جو اپنی آبادی، وسائل اور تعلیمی ڈھانچے کے اعتبار سے ایک “منی کنٹری” کی حیثیت رکھتا ہے، سکول لائبریریوں کی حالت نہایت افسوسناک ہے۔ ہزاروں سرکاری سکولوں میں لائبریریاں یا تو مکمل طور پر بند پڑی ہیں یا محض ایک کمرے تک محدود ہوکررہ گئی ہیں،جہاں نہ باقاعدہ کتب کی تنظیم ہے اور نہ ہی کوئی پیشہ ور لائبریرین موجود ہےحیران کن امر یہ ہے
کہ گزشتہ تقریباً تیس برسوں سے سکول لائبریرین کی آسامیاں خالی پڑی ہیں،جبکہ ہرسال حکومتِ پنجاب کے بجٹ میں ان آسامیوں کی تنخواہیں باقاعدہ مختص کی جاتی ہیں، مگر تقرری نہ ہونے کی وجہ سے یہ فنڈز واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف وسائل کا ضیاع ہے بلکہ ایک پوری نسل کےفکری مستقبل کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ ایک طرف تعلیمی اداروں میں سیمینارز اور تقاریر کے ذریعے یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ بچوں میں کتاب کلچر فروغ نہیں پا رہا،
جبکہ دوسری طرف بنیادی ڈھانچہ، یعنی سکول لائبریریاں اور لائبریرین، نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ اگر واقعی ہم نئی نسل میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر سکول لائبریرین کی آسامیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ پر پُر کی جائیں، تاکہ برسوں سے بند لائبریریاں دوبارہ فعال ہو سکیں۔یہ اقدام نہ صرف تعلیمی ماحول کو بہتر بنائے گا بلکہ لائبریری سائنس کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
بلاشبہ اگر یہ مسئلہ اعلیٰ سطح پر، خصوصاً مریم نواز شریف کے سامنے سنجیدگی سے پیش کیا جائے تو اس کے فوری اور مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور پنجاب میں کتاب کلچر کے احیاء کی ایک نئی بنیاد رکھی جا سکتی

