spot_img

ذات صلة

جمع

جی سی یو ، منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک کمی

جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز...

یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن آن لائن کلاسز کا حکم

پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور...

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا...

افغانستان میں پھنسے مزید 110 پاکستانی طلباء وطن واپس پہنچ گئے

جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے...

کے پی کے، پشاور اور بنوں میں میٹرک کے پرچے آؤٹ، واٹس ایپ پر حل شدہ پرچے تقسیم

پشاور/بنوں (نمائندگان) خیبر پختونخوا میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کا وقار خاک میں مل گیا۔ پشاور اور بنوں تعلیمی بورڈز کے تحت بدانتظامی سامنے آئی ہے، جہاں میٹرک کے اہم پرچے نہ صرف لیک ہوئے بلکہ ان کے جوابات بھی امتحان سے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔

پشاور بورڈ: بیالوجی کا پرچہ سوشل میڈیا کی زینت بن گیا

پشاور بورڈ کے زیر اہتمام دسویں جماعت کے بیالوجی کے امتحان میں شفافیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

  • مکمل پرچہ وائرل: بیالوجی کے پرچے کے تمام حصے بشمول ایم سی کیوز (MCQs)، پارٹ بی اور پارٹ سی امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگے۔
  • حل شدہ جوابات: حیرت انگیز طور پر صرف سوالنامہ ہی نہیں بلکہ حل شدہ پرچہ بھی امیدواروں تک پہنچ چکا تھا، جس سے لائق طلبہ کی محنت پر پانی پھر گیا۔

بنوں بورڈ: کمپیوٹر سائنس کا پرچہ صبح سویرے ہی آؤٹ

بنوں بورڈ میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ رہی۔ وہاں میٹرک کے کمپیوٹر سائنس کا پرچہ صبح سویرے ہی آؤٹ ہو گیا۔

  • پیشگی رسائی: ذرائع کے مطابق امتحان شروع ہونے سے کافی دیر پہلے ہی سوالات اور ان کے جوابات طلبہ کے موبائل فونز تک پہنچ چکے تھے۔
  • بے چینی کی لہر: پرچے لیک ہونے کے اس مسلسل سلسلے نے اساتذہ، والدین اور محنتی طلبہ میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔

انتظامیہ کی خاموشی اور نظام پر سوالات

صوبے کے دو بڑے تعلیمی بورڈز میں ایک ہی دن پرچوں کا آؤٹ ہونا امتحانی عملے کی ملی بھگت یا مانیٹرنگ سسٹم کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ اور سخت سیکیورٹی کے دعوؤں کے باوجود پرچے امتحانی مراکز سے باہر کیسے پہنچ رہے ہیں؟

والدین اور اساتذہ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے اور امتحانی نظام کی ساکھ بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔