اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

بھارت، تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا بحران، 1 کروڑ 10 لاکھ گریجویٹس نوکریوں سے محروم

بھارت: تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا بحران، 1 کروڑ 10 لاکھ گریجویٹس نوکریوں سے محروم

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)

عظیم پریم جی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بھارت میں گریجویٹ نوجوانوں کی بے روزگاری کے حوالے سے ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تعلیم اور روزگار کے مواقعوں کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

رپورٹ کے چشم کشا اعداد و شمار:

گریجویٹ بے روزگاری: 20 سے 29 سال کی عمر کے 6 کروڑ 30 لاکھ گریجویٹس میں سے 1 کروڑ 10 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔

نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر: 15 سے 25 سال کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 25 سے 29 سال کے گروپ میں یہ شرح 20 فیصد ہے۔

مستقل ملازمت کا فقدان: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بے روزگاری کا اعلان کرنے والے گریجویٹس میں سے محض 7 فیصد ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ والی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔

افرادی قوت کا ضیاع:

تحقیق کے مطابق بھارت کی 15 سے 29 سال کی نوجوان آبادی 36.7 کروڑ ہے، جو کام کرنے والی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتی ہے۔ اس بڑی تعداد میں سے 26.3 کروڑ نوجوان ایسے ہیں جو تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں اور افرادی قوت (Workforce) کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن مارکیٹ میں ان کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بھارت کے تعلیمی نظام اور جاب مارکیٹ کے درمیان عدم توازن کو ظاہر کرتی ہے، جو آنے والے وقت میں ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے