spot_img

ذات صلة

جمع

جی سی یو ، منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک کمی

جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز...

یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن آن لائن کلاسز کا حکم

پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور...

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا...

افغانستان میں پھنسے مزید 110 پاکستانی طلباء وطن واپس پہنچ گئے

جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے...

بھارت، تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا بحران، 1 کروڑ 10 لاکھ گریجویٹس نوکریوں سے محروم

بھارت: تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا بحران، 1 کروڑ 10 لاکھ گریجویٹس نوکریوں سے محروم

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)

عظیم پریم جی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بھارت میں گریجویٹ نوجوانوں کی بے روزگاری کے حوالے سے ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تعلیم اور روزگار کے مواقعوں کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

رپورٹ کے چشم کشا اعداد و شمار:

گریجویٹ بے روزگاری: 20 سے 29 سال کی عمر کے 6 کروڑ 30 لاکھ گریجویٹس میں سے 1 کروڑ 10 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔

نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر: 15 سے 25 سال کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 25 سے 29 سال کے گروپ میں یہ شرح 20 فیصد ہے۔

مستقل ملازمت کا فقدان: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بے روزگاری کا اعلان کرنے والے گریجویٹس میں سے محض 7 فیصد ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ والی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔

افرادی قوت کا ضیاع:

تحقیق کے مطابق بھارت کی 15 سے 29 سال کی نوجوان آبادی 36.7 کروڑ ہے، جو کام کرنے والی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتی ہے۔ اس بڑی تعداد میں سے 26.3 کروڑ نوجوان ایسے ہیں جو تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں اور افرادی قوت (Workforce) کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن مارکیٹ میں ان کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بھارت کے تعلیمی نظام اور جاب مارکیٹ کے درمیان عدم توازن کو ظاہر کرتی ہے، جو آنے والے وقت میں ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے