کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع کی کامیاب مصالحت اور کوششوں کے باعث انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے گزشتہ 41 روز سے جاری اپنا احتجاج اور امتحانات کا بائیکاٹ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جامعہ میں طویل عرصے سے جاری تدریسی و انتظامی بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع کی ہدایت پر ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو اور چیئرمین سندھ ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے کی۔ اجلاس میں جامعہ کراچی کے اساتذہ، افسران اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے سربراہان سمیت سیکریٹری جامعات و بورڈز محمد عباس بلوچ، چارٹر انسپیکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، سندھ ایچ ای سی کے سیکریٹری ڈاکٹر نعمان احسن، کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (کلوٹس) کے صدر سید غفران عالم، ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر زاہد حسین بلوچ اور آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر فیصل ہاشمی نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران یونیورسٹی کو درپیش مالی و انتظامی مسائل اور احتجاجی تحریک کے خاتمے کے امکانات پر طویل اور تفصیلی مشاورت کی گئی۔ مذاکرات میں یہ فارمولا طے پایا کہ پہلے انجمن اساتذہ امتحانات اور تدریس کا بائیکاٹ ختم کرے گی، جس کے فوری بعد محکمہ جامعات و بورڈز حکومت سندھ جامعہ کراچی کے ملازمین کے لیے ‘ایکس گریشیا ادائیگی’ اور ‘ہاؤس رینٹ سیلنگ’ سے متعلق سازگار سفارشات پر مشتمل سمری منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کرے گا۔
انجمن اساتذہ کا مؤقف, مذاکرات کی کامیابی کے بعد انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں بائیکاٹ ختم کرنے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ کلوٹس کے صدر ڈاکٹر غفران عالم نے میڈیا کو بتایا کہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع اور صوبائی وزیر اسماعیل راہو کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور خاص طور پر عاشورہ محرم الحرام کے احترام اور قربت کے باعث احتجاج اور امتحانات کے بائیکاٹ کو مؤخر کیا جا رہا ہے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو اور انتظامی معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

