Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایکسکلوسیو نیوزوفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کا پریس کلب پر شدید احتجاج، گورنر...

وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کا پریس کلب پر شدید احتجاج، گورنر ہاؤس تک مارچ کی کوشش

* اساتذہ 26 ماہ سے ہاؤس سیلنگ، 4 ماہ سے پینشن اور 2 ماہ سے تنخواہوں اور بقایاجات سے محروم ہیں

* وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری تنخواہوں کا مطالبہ کرنے والے اساتذہ کو کروڑوں روپے ہرجانے کے لیگل نوٹس بھیج رہے ہیں: اساتذہ کا الزام

* اساتذہ کا چانسلر آصف علی زرداری، پرو چانسلر خالد مقبول صدیقی اور چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز اختر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی (سٹاف رپورٹر)

وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ نے تنخواہوں، پینشن، میڈیکل، ہاؤس سیلنگ اور دیگر واجب الادا بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کلب کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔

طویل عرصے سے واجبات کی عدم ادائیگی

مظاہرے کے دوران اساتذہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طویل عرصے سے ان کے جائز مالی حقوق دبا رکھے ہیں۔ اساتذہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ:

  • یونیورسٹی میں 26 ماہ سے ہاؤس سیلنگ ادا نہیں کی گئی۔
  • اساتذہ اور ملازمین گزشتہ 4 ماہ سے پینشن سے محروم ہیں۔
  • گزشتہ 2 ماہ سے تنخواہیں اور بقایاجات بھی ادا نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے اساتذہ شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

وائس چانسلر پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات

احتجاجی اساتذہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے رویے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اساتذہ نے الزام عائد کیا کہ حق مانگنے پر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وائس چانسلر تنخواہوں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے اساتذہ کو کروڑوں روپے ہرجانے کے لیگل نوٹس بھجوا رہے ہیں، جبکہ خواتین اساتذہ کو بھی مسلسل ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل

مظاہرین نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اساتذہ نے یونیورسٹی کے چانسلر و صدرِ مملکت آصف علی زرداری، پرو چانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز اختر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے ان سنگین مالی اور انتظامی مسائل کا فوری طور پر نوٹس لیں اور اساتذہ کے جائز مطالبات کو حل کروائیں۔