کراچی (اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے ادارے کو عالمی معیار کی پائیدار یونیورسٹی بنانے کے لیے جامع “یونیورسٹی سسٹین ایبلٹی پالیسی اینڈ امپلیمنٹیشن روڈ میپ (2026-2029)” متعارف کروا دیا ہے۔ یہ پالیسی وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین (ستارہِ امتیاز، تمغہِ امتیاز) نے خود تیار کی اور اسے یونیورسٹی کے تمام اہم تعلیمی و انتظامی سربراہان کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا۔
پالیسی کی بریفنگ کے لیے منعقدہ اجلاس میں مشیر برائے وائس چانسلر، رجسٹرار، تمام ڈینز، شعبہ جات کے چیئرپرسنز، ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پالیسی کے اہم خدوخال اور اہداف
یہ پالیسی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف ($SDGs$) اور عالمی معیار کے سسٹین ایبلٹی فریم ورک کے عین مطابق تیار کی گئی ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- سسٹین ایبلٹی آفس کا قیام: پالیسی کا سب سے اہم اقدام یونیورسٹی میں ایک مخصوص ‘سسٹین ایبلٹی آفس’ کا قیام ہے، جو پائیدار ترقی سے متعلق تمام اقدامات کی نگرانی، عملدرآمد اور رپورٹنگ کا مرکزی ادارہ ہوگا۔ اس آفس کی سربراہی ڈائریکٹر سسٹین ایبلٹی کریں گے۔
- نصاب میں تبدیلی: یونیورسٹی کے 70 فیصد سے زائد تعلیمی پروگرامز میں سسٹین ایبلٹی کے تصورات کو شامل کیا جائے گا۔
- ماحولیاتی تحفظ: اگلے تین سالوں میں یونیورسٹی کے کاربن فٹ پرنٹ میں 25 سے 30 فیصد تک کمی لائی جائے گی۔
- عالمی رینکنگ کا ہدف: تین سالہ روڈ میپ کے تحت یونیورسٹی کو معتبر ‘کیو ایس سسٹین ایبلٹی رینکنگ’ میں شامل کرانا اہم ہدف ہے۔
- سالانہ رپورٹ: یونیورسٹی کی جانب سے باقاعدگی کے ساتھ سالانہ سسٹین ایبلٹی رپورٹ بھی جاری کی جائے گی۔
اس موقع پر وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد ماحولیات کے تحفظ، سماجی ذمہ داری اور بہتر انتظامی نظام کو یونیورسٹی کے تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معاملات کا مستقل حصہ بنانا ہے تاکہ ادارے کو جدید اور عالمی معیار کے سانچے میں ڈھالا جا سکے۔

