درخواست گزار نئے بھرتی عمل کے خلاف قانون کے مطابق الگ رجوع کر سکتا ہے: ہائیکورٹ بنوں بنچ
بنوں (نمائندہ خصوصی) پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں میں سیکرٹری (بی پی ایس 19) کی ڈیوٹیشن پر تعیناتی کے خلاف دائر آئینی درخواست خارج کر دی ہے۔ عدالت عالیہ نے درخواست گزار کو نئے بھرتی عمل کے خلاف قانون کے مطابق الگ سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
دو رکنی بنچ کا فیصلہ اور وکلاء کے دلائل: کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ کے معزز ججز، جسٹس محمد طارق آفریدی اور جسٹس ثابت اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ مقدمے کی تفصیلی سماعت کے بعد معزز عدالت نے فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران:
- درخواست گزار کی جانب سے عنایت اللہ خان ایڈوکیٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دیے۔
- سردار نعیم خان ایڈوکیٹ اور اکرام اللہ خان مروت ایڈوکیٹ براہِ راست عدالت میں پیش ہوئے۔
- صوبائی حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل محمد اصغر خان احمدزئی نے کی۔
عدالت کا مئوقف: معزز عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک کیا گیا یا اس کے کسی قانونی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر درخواست گزار کو نئے بھرتی کے عمل پر کوئی اعتراض ہے، تو وہ قانون کے مطابق علیحدہ قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

