-
سینیٹ قائمہ کمیٹی نے اردو یونیورسٹی کے اندرونی نظام کی اصلاح تک خصوصی گرانٹ بھی روکنے کا حکم جاری کیا ہے
-
(ایجو کیشن رپورٹر)کراچی
وفاقی اردو یونیورسٹی کے طویل انتظامی و مالی بحران کا جائزہ لینے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں نامکمل سنڈیکیٹ کے ذریعے کیے گئے موجودہ وائس چانسلر کے فیصلوں پر عملدرآمد روکنے، سنڈیکیٹ کا کورم فوری مکمل کرنے اور یونیورسٹی سے متعلق ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی تحقیقاتی رپورٹس طلب کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں یونیورسٹی کے انتظامی و مالی بحران کی تفصیلی تحقیقات کے لیے سینیٹ کی ایک سب کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کی اہم تفصیلات اور فیصلے:
-
سنڈیکیٹ کے فیصلے معطل: کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے سوال اٹھایا کہ اگر سنڈیکیٹ کا کورم ہی مکمل نہیں تو اتنے انتہائی اہم نوعیت کے فیصلے کیسے کیے جا سکتے ہیں؟ اس کی روشنی میں موجودہ وی سی کے تمام متعلقہ فیصلوں پر عملدرآمد روک دیا گیا۔
-
ویڈیو ریکارڈنگ کی ہدایت: کمیٹی نے ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کے معاملات کو سنگین قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے تمام مستقبل کے اجلاسوں کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ کر کے محفوظ رکھنے کی ہدایت کی۔
-
مالی عدم مساوات پر تحفظات: سینیٹر ڈاکٹر خالدہ اطیب نے نشان دہی کی کہ اردو یونیورسٹی کی گرانٹ میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اس کے باوجود اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں، ہاؤس سیلنگ اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن التوا کا شکار ہے۔
-
کراچی اور اسلام آباد کیمپس میں امتیاز: اساتذہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کیمپس کے ملازمین کو جولائی کی ہاؤس سیلنگ ادا کر دی گئی ہے، جبکہ کراچی کیمپس کے ملازمین گزشتہ 28 ماہ سے اس حق سے محروم ہیں۔
-
وی سی کے خلاف شکایات: اساتذہ نے وائس چانسلر کے خلاف ہراسانی، انتقامی کارروائیوں اور امتیازی سلوک کے الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ہراسانی کے معاملے پر ایک عدالتی فیصلہ بھی آ چکا ہے جبکہ دیگر مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قسم کی خصوصی گرانٹ فراہم کرنے سے قبل اس کے اندرونی انتظامی نظام کو درست کرنا ہوگا۔
اجلاس میں سینیٹر اشرف علی جتوئی، سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر سرمد علی، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر، اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان ۔
شینواری نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر ڈاکٹر خالدہ اطیب آن لائن شریک ہوئیں

