اسلام آباد (کرائم رپورٹر)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر شہزاد بخاری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متوفیہ کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے حکام نے لائبہ اعجاز کے ماموں رانا امجد سے رابطہ کیا اور ان سے مبینہ تعلیمی فراڈ اور واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کی معلومات مانگیں۔ رانا امجد نے بھی ایف آئی اے کی جانب سے رابطہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کیحلاف طلبہ کا لانگ مارچ شروع
کیس کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کا نوٹس اور لواحقین سے فوری رابطہ کیس میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ لائبہ اعجاز کی لاش اسلام آباد کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی،
جس کے بارے میں اہل خانہ کا موقف ہے کہ وہ امریکی یونیورسٹی میں تعلیم کے نام پر 70 لاکھ روپے کے مالی فراڈ کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اس اقدام پر مجبور ہوئی۔
ایف آئی اے کی جانب سے معلومات کے حصول کے بعد جعلی ایجنٹ کے خلاف قانونی گھیرا مزید تنگ ہونے کا امکان ہے۔