اہم ترین

چیف منسٹر آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام’ کا آغاز، 50 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ  کی جانب...

پی بی ٹی ای کے زیر اہتمام مختلف ڈپلومہ جات کے دوسرے سالانہ امتحان 2026 کے امتحانی شیڈول کا اعلان

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن لاہور نے...

آسٹریلیا، 20 سالہ پاکستانی طالبہ کے قاتل ڈرائیور کی سزا معاف

ایڈیلیڈ(نیٹ نیوز) آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں گذشتہ سال...

ایمرسن یونیورسٹی ملتان، سابقہ بھرتیاں منسوخ، امیدواروں کا احتجاج

ملتان (ایجوکیشن رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں سابقہ اشتہارات کے تحت تدریسی اور غیر تدریسی آسامیوں پر

بھرتیوں کی منسوخی کا معاملہ تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ متاثرہ امیدواروں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسان

خالق قریشی اور رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے

سنڈیکیٹ کو مکمل حقائق سے آگاہ نہیں کیا اور انتظامی وجوہات کا جواز پیش کر کے بھرتی کا عمل منسوخ کرایاذرائع

کے مطابق یونیورسٹی نے 20 جون 2023، 15 اگست 2024 اور 29 اپریل 2025 کو مختلف آسامیوں کے لیے

اشتہارات جاری کیے تھے۔ امیدواروں نے درخواستیں جمع کرانے اور مقررہ فیسوں کی ادائیگی کے بعد ہائر ایجوکیشن

کمیشن کے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت تحریری امتحانات میں حصہ لیا۔ امتحانات 19 جولائی 2025 سے شروع

ہوئے تھے

 

کراچی بمقابلہ اندرونِ سندھ، انجینئرنگ میں کیمبرج کا راج، میڈیکل میں سرکاری بورڈز آگے

 

امیدواروں کے مطابق امتحانات اور نتائج کی تیاری مکمل ہونے کے بعد بھرتی کا عمل انٹرویوز کے مرحلے تک پہنچ چکا

تھا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سابق وائس چانسلر کے استعفے اور نئے مستقل وائس چانسلر کی اپریل 2026 میں تعیناتی

کے دوران انتظامی تعطّل رہا، جس میں امیدواروں کا کوئی قصور نہیں تھاان کے مطابق سنڈیکیٹ کے آٹھویں اجلاس

میں ایجنڈا آئٹم نمبر 21 کے تحت بھرتی کو پرانا اور نامکمل عمل قرار دے کر منسوخ کیا گیا، حالانکہ امتحانات اور

نتائج کے مراحل مکمل ہو چکے تھے۔ امیدواروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فیصلے سے سینکڑوں افراد کی محنت،

فیسیں اور سفری اخراجات ضائع ہوئے، جبکہ عمر کی حد اور دوبارہ فیسوں کی ادائیگی کے مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں

انہوں نے گورنر پنجاب اور چانسلر ایمرسن یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں

اور قانونی رکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں بھرتی کا عمل انٹرویوز کے مرحلے سے بحال کیا جائے