ایڈیلیڈ(نیٹ نیوز) آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں گذشتہ سال سڑک پر پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے میں 20 سالہ
پاکستانی بین الاقوامی طالبہ سمیہ ملک کی ہلاکت کے مقدمے میں عدالت نے آسٹریلوی ڈرائیور کو قید کی سزا سے
معافی دے دی ہے۔
اسٹن فرینڈ جو کہ بینکسیا پارک کا رہائشی ہے، نے 6 مئی 2025 کو پیش آنے والے اس لرزہ خیز حادثے کے بعد غفلت سے
موٹر گاڑی چلانے اور حادثے کی جگہ سے فرار ہونے کے الزامات کا اعتراف کر لیا تھا. جنوبی آسٹریلیا کی ڈسٹرکٹ کورٹ
کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے بتایا گیا کہ سمیہ ملک کو ٹکر لگنے سے چند منٹ قبل وہ سڑک پر گھٹنوں کے بل
بیٹھی ہوئی تھی. جج این بارنیٹ نے بتایا کہ تاہم عدالت کو یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ وہ اس وقت سڑک پر کیوں
موجود تھی.
ڈرائیور اسٹن فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کے گھر سے واپس آ رہا تھا اور اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے سمیہ ملک کو
نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اسے اندازہ ہوا تھا کہ اس نے کسی انسان کو ٹکر ماری ہے.
ملزم کے وکیل کے مطابق اس نے صرف ایک آواز سنی تھی اور ابتدائی طور پر اسے یہی لگا تھا کہ شاید اس کی گاڑی
کسی جانور سے ٹکرا گئی ہے.
عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حادثے کے وقت فرینڈ نہ تو تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا اور نہ ہی وہ الکحل
یا کسی شے کے زیرِ اثر تھا.
فرانس طلباء احتجاج، سوئیڈش ایکٹیوسٹ گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہو گئیں
واقعے کے بعد فرینڈ نے تقریباً ایک ہفتے تک خود کو پولیس سے چھپائے رکھا تھا، تاہم بعد میں پولیس نے اسے شناخت کر
کے پکڑ لیا. عدالت میں اس نے سمیہ ملک کے اہل خانہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر انتہائی شرمندہ ہے اور
اسے اپنی زندگی بھر اس کے نتائج کے ساتھ جینا پڑے گا.
مقتولہ کی بہن قدسیہ ملک نے عدالت کو بتایا کہ ان کا خاندان اب بھی اس سانحے کے صدمے سے نکلنے کی کوشش
کر رہا ہے اور زندگی کا ہر اہم موڑ انہیں اس نوجوان خاتون کی یاد دلاتا ہے جو اب ان کے درمیان نہیں رہی.
جج این بارنیٹ نے اسٹن فرینڈ کو ایک سال، تین مہینے اور 29 دن قید کی سزا سنائی، جس میں آٹھ ماہ کی نان
پیرول مدت بھی شامل ہے. تاہم، ملزم کی جانب سے اچھے چال چلن کے بانڈ جمع کرانے پر سزا کو معطل کر دیا گیا،
جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس بونڈ کی پابندی کرے گا اسے جیل نہیں بھیجا جائے گا.