حیدرآباد (ایجو کیشن رپورٹر) حیدرآباد میں پولیس کی بھاری نفری نے قوم پرست تنظیم جے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جیساف) کی جانب سے قومی شاہراہ پر دیے گئے دھرنے پر لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے،
جبکہ کارروائی کے دوران کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے. تفصیلات کے مطابق قوم پرست تنظیم جیساف کی جانب سے نسیم نگر چوک پر لٹریچر اور ممبر شپ کیمپ لگایا گیا تھا. اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور منتظمین کو کیمپ ہٹانے کا کہا، لیکن جب انہوں نے کیمپ ہٹانے سے انکار کیا تو پولیس نے خود وہاں سے لٹریچر اور ممبر شپ کیمپ ختم کرا دیا.
پنجاب یونیورسٹی لٹریری فیسٹیول 2026ء کا انعقاد 15 سے 17 اکتوبر تک ہو گا
لٹریچر اور ممبر شپ زبردستی ختم کرانے پر ختم کرا کر لٹریچر تحویل میں لے لیا گیا. بعد ازاں رات کو جیساف کے کارکنوں نے زوہر پر لٹریچر اور ممبر شپ ختم کرانے اور لٹریچر تحویل میں لینے کے خلاف واڈھو گیٹ کے سامنے قومی شاہراہ بائی پاس بائی پاس پر دھرنا دیا. اس کے نتیجے میں قومی شاہراہ بائی پاس کی ایک شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت معطل ہو گئی اور وہاں بھاری گاڑیوں کی قطاریں لگنا شروع ہو گئیں.
قومی شاہراہ کو بلاک کرنے پر پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچی اور دھرنے دینے والے قوم پرست طلبہ کارکنوں پر لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کر دیا، جبکہ پولیس نے کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لے لیا ہے. دوسری طرف پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جیساف کا تعلق ایک پابندی شدہ قوم پرست جماعت سے ہے جس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے