پیرس(نیٹ نیوز) فرانس بھر میں اسکولوں کی خراب صورتحال اور سہولیات کے فقدان کے خلاف طلبہ کی ملک گیر
احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی ہے۔ منگل کے روز سوئیڈش موسمیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی دارالحکومت
پیرس کے مضافاتی علاقے میں مظاہرین کے ساتھ مل کر بلاک کیے گئے ایک ہائی سکول کے باہر احتجاج میں شرکت کی۔
ستمبر کے وسط سے شروع ہونے والی یہ احتجاجی تحریک اب فرانس کے صدہا اسکولوں تک پھیل چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے کروائے گئے ایک سروے اور مشاورت میں، جس میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا، اسکولوں کے اوقاتِ
کار کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
منگل کے روز پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ اس تحرک کو اساتذہ کی یونینوں اور
دیگر طبقوں کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے۔
مظاہروں کے دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں پولیس نے آنسو گیس اور ہجوم
کو کنٹرول کرنے کے دیگر ذرائع استعمال کیے۔ فرانسیسی حکام نے کچھ مقامات پر توڑ پھوڑ، آگ لگانے اور تعلیمی عملے
پر حملوں کی رپورٹس دی ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی الزامات پر تحققیات
بھی شروع کر دی گئی ہیں۔