لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیماء) کے زیر اہتمام چلنے والے ہزاروں لائسنسی سکول گزشتہ دو ماہ سے معاوضوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس تاخیر کی وجہ سے سکول انتظامیہ اور اساتذہ کو اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔
سکول مالکان کے مطابق، پیماء کی جانب سے اگست اور ستمبر کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں صوبے بھر کے تقریباً 4,300 لائسنسی سکول مالی بحران کا شکار ہیں۔
20 ہزار اساتذہ اور عملہ متاثر
ادائیگیوں میں اس غیر معمولی تاخیر کے باعث تقریباً 20,000 اساتذہ اور سکول انتظامیہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہیں گھریلو اور انتظامی اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے ان کی کارکردگی اور تعلیمی عمل پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ آٹے میں نمک کے برابر، ‘فپواسا’ کی شدید تنقید
6 لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر
سکول مالکان نے حکومت اور متعلقہ حکام کو خبردار کیا ہے کہ پیماء کے ماتحت سکولوں میں تقریباً 6 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی نظام کے تسلسل اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت فنڈز کی فراہمی ناگزیر ہے۔
پیماء حکام کا موقف
دوسری جانب، جب اس سلسلے میں پیماء حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لائسنسی سکولوں کو مرحلہ وار ادائیگیوں کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بقایا جات بھی جلد ادا کر دیے جائیں گے۔
تاہم، سکول مالکان نے حکام کے اس موقف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری ادائیگیوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تعلیمی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔