اہم ترین

سندھ , طلبہ اور فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ

 کراچی (سپیشل رپورٹر)حکومت سندھ نے طلبہ اور فارغ التحصیل...

پیما کے زیر اہتمام سکول 2 ماہ کے معاوضوں سے محروم،مالی بحران کا خدشہ

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیماء) کے زیر...

خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ آٹے میں نمک کے برابر، ‘فپواسا’ کی شدید تنقید

پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک...

فیصل آباد میں خاتون ٹیچر کی جعلی نازیبا تصاویر بنا کر وائرل کرنے کے الزام میں ملزم گرفتار

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی فیصل...

پاکستان میں 46 فیصد طلبہ نجی سکولوں میں زیر تعلیم، سرکاری سکولوں کے معیار اور حفاظت پر سوالیہ نشان

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک)  پاکستان میں تعلیمی شعبے کی صورتحال پر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 46.5 فیصد طلبہ نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، عالمی بینک کے اندازے اس سے بھی تشویشناک صورتحال پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق یہ شرح تقریباً 49 فیصد ہے، جو 2 کروڑ 17 لاکھ بچوں تک پہنچتی ہے۔

قومی نصاب کونسل (نیشنل کریکولم کونسل) کی سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر مریم چغتائی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کی اکثریت کا خیال ہے کہ سرکاری سکولوں میں دی جانے والی تعلیم معیاری نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے سرکاری سکول عملی طور پر تعلیمی اداروں کے بجائے صرف ایسی جگہیں بن چکے ہیں جہاں بچوں کو دن کے مخصوص اوقات کے لیے رکھا جاتا ہے۔ والدین اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔

فیصل آباد میں خاتون ٹیچر کی جعلی نازیبا تصاویر بنا کر وائرل کرنے کے الزام میں ملزم گرفتار

رپورٹ کے مطابق، غریب خاندان اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ وہاں بچوں کے تعلیمی سال ضائع ہو سکتے ہیں، جس کا اثر ان کے مستقبل اور آمدن پر پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، غریب والدین مجبوراً اپنے بچوں کو کم فیس والے نجی سکولوں میں بھیجتے ہیں اور اس کے لیے انہیں دو یا تین ملازمتیں کرنی پڑتی ہیں۔

تاہم، ڈاکٹر مریم چغتائی نے خبردار کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ نجی سکولوں میں تعلیم کا معیار سرکاری سکولوں سے بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان  سکولوں میں حفاظتی جانچ پڑتال کا نظام بہت کمزور ہے، جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگرچہ نجی سکولوں کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے،

فرانس میں شدید تعلیمی بحران، طلبہ مظاہرے جاری، 17 اکتوبر کو مزید احتجاج کا اعلان

لیکن تدریسی معیار اور عمارتوں کی حفاظت کا طریقہ کار انتہائی ناقص ہے۔ بہت سے کم فیس والے  سکول خستہ حال رہائشی گھروں میں چل رہے ہیں، جہاں طلبہ کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اضافی منزلیں تعمیر کر لی جاتی ہیں، جو عمارت کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔

ڈاکٹر مریم چغتائی نے زور دے کر کہا کہ جب تک بچوں کی حفاظت کو ایک ناقابل سمجھوتہ ترجیح نہیں سمجھا جاتا اور اسے منافع کمانے کا ذریعہ سمجھنا بند نہیں کیا جاتا، تب تک ہم اسی طرح کے المناک واقعات پر سوگ مناتے رہیں گے۔