اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے کالجوں کے تدریسی عملے اور کمپیوٹر
اساتذہ کی مستقلی کے بعد دوبارہ جانچ کے خلاف دائر کردہ تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ جسٹس شاہ رخ
ارجمند نے 32 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کو مجوزہ قانونی
جانچ سے استثنا دینے کی کوئی قانونی بنیاد ثابت نہیں ہوئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی آسامیوں پر
مستقلی کی سفارش کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، جبکہ غیر قانونی اختیار کے تحت کی گئی مستقلی
سندھ, غیر قانونی تقرریوں کی تحقیقات، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ افسران 20 اکتوبر کو طلب
کو صرف طویل عرصہ گزر جانے کی بنیاد پر قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مستقلی کے
نوٹیفیکیشن اور کئی سال ملازمت کرنے سے تقرری کا درست طریقہ ثابت نہیں ہوتا۔
درخواست گزاروں نے وفاقی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کے عمل کو عدالت میں چیلنج
کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ تقریباً 14 سال بعد مستقلی کے عمل کی دوبارہ جانچ قانونی اختیار کے
بغیر ہے، اور اس عمل سے ان کی سنیارٹی، تنخواہ کے تحفظ اور پنشن کے حقوق شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ درخواست
گزاروں نے استدعا کی تھی کہ متعلقہ سرکاری خطوط کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر عمل درآمد روکا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پبلک سروس کمیشن، وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور اسٹیبلشمنٹ
ڈویژن کے آفس میمورنڈم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کے خلاف دائر کردہ تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔