ملتان (نیوز رپورٹر) محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے اشتراک سے
"کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر” پائیدار غذائی تحفظ کی جانب ایک قدم” کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی
کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، زرعی
سائنسدانوں، محققین، اساتذہ اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کے مختلف
نشستوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے زراعت پر منفی اثرات، فصلوں کی پیداوار میں اضافے، پانی کے مؤثر استعمال
اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید اور پائیدار زرعی طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پی آئی ٹی بی کے تین یونیورسٹیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
شرکاء نے اپنی تحقیق اور تجربات کی روشنی میں اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز
کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور پائیدار زرعی حکمتِ عملیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم
ضرورت ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر
میں زراعت کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنا، پانی کے وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور فصلوں کی
موسمیاتی اثرات کے خلاف قوتِ مدافعت کو بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلائمیٹ اسمارٹ
ایگریکلچر نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافے بلکہ غذائی تحفظ، ماحولیاتی توازن اور ملکی معیشت کے استحکام میں
بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔