لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدام میکر سپیس پنجاب کے تحت کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، لاہور کیمپس، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں طے پا گئیں۔ ان اشتراکات کا مقصد یونیورسٹیوں اور صنعتی شعبے کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، تحقیق و جدت کو فروغ دینا اور آئی ٹی ہارڈویئر کے شعبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ایم او یوز پر پی آئی ٹی بی ڈائریکٹر جنرل ای گورننس ساجد لطیف نے متعلقہ یونیورسٹیوں کے سربراہان کے ساتھ دستخط کیے، جن میں کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کیمپس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شامل ہیں۔ اس موقع پر پی آئی ٹی بی ڈائریکٹر سکلز ڈویلپمنٹ احمد اسلام سیان، کامسیٹس یونیورسٹی کے نمائندگان اور میکر سپیس پنجاب کی ٹیم بھی موجود تھی۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں وزیر،وزیرمملکت اور سیکرٹری تعلیم کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار
ان اشتراکات کے تحت طلبہ، اساتذہ اور محققین کو جدید لیبارٹریز، تکنیکی رہنمائی، تربیت اور پروٹوٹائپنگ کی سہولیات تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ تعلیمی تحقیق کو عملی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے، نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے اور نئی ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی تیاری کی حوصلہ افزائی ہو۔

میکر سپیس پنجاب حکومتِ پنجاب کیلئے پی آئی ٹی بی کا وضع کردہ منصوبہ ہے، جس کا مقصد ہارڈویئر کے شعبے میں جدت، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعات کے ابتدائی نمونے تیار کرنے اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینا ہے۔ اس حوالے سے پی آئی ٹی بی چیئرمین فیصل یوسف کا کہنا تھا کہ میکر سپیس پنجاب نوجوانوں، محققین اور نئے آئیڈیاز پر کام کرنے والوں کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے اور خیالات کو عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کرے گا۔

جامعات کے ساتھ یہ اشتراکات تعلیمی تحقیق کو صنعت کی ضروریات سے جوڑنے اور مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ اور محققین کو جدید سہولیات اور تکنیکی رہنمائی کی فراہمی سے نہ صرف تحقیق اور جدت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ نوجوانوں میں کاروباری رجحان کو فروغ ملے گا اور پنجاب میں ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ بھی ہموار ہو گی۔