اہم ترین

ایچ ای سی نے ملک بھر کی جامعات کے لیے 22 رکنی نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دے دی

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای...

سموگ ،دہلی میں سکول بند،دفاتر میں ورک فراہم ہوم نافذ

لاہور(ویب ڈیسک )جمعہ کے روز دہلی اور اس کے...

اندرونِ سندھ کی یونیورسٹیوں میں کراچی کے طلبہ کے لیے دروازے بند، جامعہ کراچی سے کوٹہ ختم کرنے پر نئی بحث شروع ہوگئی

کراچی (سپیشل رپورٹر) جامعہ کراچی میں ایکٹ اور وائس چانسلر کی مرضی کے خلاف تعینات کیے جانے والے ڈین آف لاء پروفیسر سرفراز میتلو کے داخلہ پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا بیان کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صوبے کی دیگر سرکاری جامعات میں بھی کراچی سمیت دیگر اضلاع کے طلبہ کے لیے داخلے مکمل طور پر کھلے ہوئے ہیں یا دیگر جامعات نے بھی داخلوں کے لیے کوٹہ اور کیٹیگریز قائم کر رکھی ہیں اور صرف جامعہ کراچی پر ہی کوٹہ اور کیٹیگری ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق داخلوں کے لیے حالیہ دباؤ بھی محض لاء کے داخلوں کے لیے ہی ہے۔ تقریباً تمام سرکاری جامعات داخلوں کے لیے پہلے اپنے شہر اور ضلع کے طلبہ کو فوقیت دیتی ہیں اور اس کے بعد باقی ماندہ نشستوں پر دیگر اضلاع کے طلبہ کی باری آتی ہے۔

پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ، محکمہ سکولز کو 3 علاقائی حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

مختلف جامعات میں نشستوں اور کوٹہ کی تفصیلات

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میڈیکل کالج و یونیورسٹی: کراچی کے صرف 4 ٹاؤنز (کیماڑی، لیاری، گڈاپ اور ملیر) کے طلبہ کے لیے 50 فیصد نشستیں مختص ہیں، جبکہ باقی بچ جانے والی 50 فیصد نشستوں پر کراچی کے دیگر 14 اضلاع اور پورے سندھ کے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد: کل 1335 داخلہ نشستوں میں کراچی کے طلبہ کے لیے صرف 42 نشستیں ہیں۔

مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (جامشورو): کل 953 نشستوں میں سے کراچی کے طلبہ کے لیے صرف 20 نشستیں ہیں۔

قائد عوام یونیورسٹی: کل 674 نشستوں میں سے کراچی کے طلبہ کے لیے محض 19 نشستیں ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن, کوئٹہ میں سینئر ایلیمنٹری ٹیچرزبھرتیوں کے شیڈول انٹرویوز ملتوی 

سندھ یونیورسٹی جامشورو: کل 986 نشستوں میں کراچی کے طلبہ کے لیے صرف 14 نشستیں ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی (BE پروگرام): اندرونِ سندھ کے لیے 50 فیصد نشستیں جبکہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے لیے نشستیں مختص ہیں، باقی پروگرامز اوپن میرٹ پر ہیں۔

این ای ڈی یونیورسٹی (NED): اندرونِ سندھ کے تعلیمی بورڈز کی مناسبت سے حیدرآباد بورڈ کے لیے 34، میرپورخاص کے لیے 41، نوابشاہ کے لیے 17، جبکہ سکھر اور لاڑکانہ بورڈز کے لیے 29 نشستیں مختص ہیں۔ اس کے علاوہ این ای ڈی کے تھر کیمپس میں بھی الگ نشستیں شامل ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی: اندرونِ سندھ کے لیے ایم بی بی ایس کی 55 نشستیں موجود ہیں۔

اس کے برعکس، اندرونِ سندھ کی میڈیکل جامعات اور کالجز میں کراچی کے طلبہ کے لیے الگ سے کوئی نشست مختص نہیں ہے، تاہم 20 نشستیں باہمی تبادلے (Mutual Exchange) کی بنیاد پر دستیاب ہیں۔