Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایکسکلوسیو نیوزخیبرپختونخوا میں انقلابی قدم، ملک کا پہلا 'ورچوئل اسکول' قائم اور 'اے...

خیبرپختونخوا میں انقلابی قدم، ملک کا پہلا ‘ورچوئل اسکول’ قائم اور ‘اے آئی ٹیچر’ متعارف

خیبرپختونخوا کا تعلیمی میدان میں انقلابی قدم: ملک کا پہلا ‘ورچوئل اسکول’ قائم اور ‘اے آئی ٹیچر’ متعارف

پشاور (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے ملک میں پہلی بار پبلک سیکٹر میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ‘ورچوئل اسکولز’ کے قیام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘اے آئی ٹیچر’ سسٹم متعارف کرانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

ورچوئل اسکولز اور اے آئی ٹیچر: اہم خصوصیات

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ

  • اے آئی ٹیچر: مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ سسٹم طلبہ کو انفرادی سطح پر سیکھنے میں مدد دے گا اور اساتذہ کے تدریسی بوجھ کو کم کر کے تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا۔
  • زبانیں: یہ سسٹم اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہوگا۔
  • مضامین: اے آئی ٹیچر کے ذریعے ریاضی، انگریزی، طبیعیات (Physics)، کیمیا (Chemistry) اور حیاتیات (Biology) جیسے اہم مضامین پڑھائے جائیں گے۔

اسکولوں کی منتقلی اور پائلٹ پروجیکٹ

رپورٹ کے مطابق صوبے کے تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:

  1. پہلا مرحلہ: صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو پائلٹ بنیادوں پر آن لائن نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں بندوبستی اضلاع کے 33 اور ضم اضلاع کے 13 اسکول شامل ہیں۔
  2. توسیع: اگلے مرحلے میں مزید 175 اسکولوں کو ورچوئل اسکولز میں تبدیل کیا جائے گا۔
  3. مرکزی اسٹوڈیو: ایک مرکزی ڈیجیٹل تدریسی اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے جہاں سے لائیو انٹرایکٹو کلاسز اور لیکچرز کی ریکارڈنگ کی سہولت دستیاب ہوگی۔

بجٹ اور انتظامی منظوری

وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کے لیے ‘اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی’ کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس پورے منصوبے کی مجموعی منظور شدہ لاگت 153.80 ملین روپے ہے، جبکہ ٹیلی تعلیم مراکز کے قیام پر 44.850 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کا موقف

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ورچوئل اسکولوں کا قیام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی نظام وقت کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام بالخصوص دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا اور ملک سے باہر مقیم پاکستانی طلبہ کو بھی ریگولر طلبہ کا درجہ دیا جائے گا تاکہ وہ بھی اس جدید نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔


اردو تعلیم ڈاٹ کام – جدید تعلیمی دنیا کی باخبر آواز