پشاور (تعلیمی رپورٹر) خیبرپختونخوا کے تعلیمی بورڈز کے تحت ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات 2026 میں ایم سی کیوز کے پرچے لیک ہونے کے سنگین اسکینڈل پر، صوبائی حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے 18 اساتذہ اور امتحانی عملے کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
معطل ہونے والوں میں اساتذہ، نگران عملہ، اور لیبارٹری اسسٹنٹس شامل ہیں، جن پر امتحانی پرچوں کی حفاظت میں غفلت برتنے، اور مبینہ طور پر پیپر لیک کرنے کے الزامات ہیں۔ یہ کارروائی محکمہ تعلیم کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ایم سی کیوز کے پرچے امتحانات شروع ہونے سے چند منٹ قبل ہی واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیک ہو گئے، جس سے امتحانات کی شفافیت پر سنگین سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
کمیٹی نے امتحانی مراکز پر سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی ہے۔ معطل اساتذہ کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،
اور انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جا سکے، بشمول ان کی ملازمت سے برطرفی اور فوجداری مقدمات کا اندراج۔
صوبائی وزیر تعلیم نے اس سنگین معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا،
اور امتحانات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے طلبہ اور والدین کو یقین دلایا ہے کہ اس واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا، اور ان کے خلاف مثال قائم کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔

