کراچی (سٹاف رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور اساتذہ و ملازمین پر تشدد کے واقعے کے خلاف تعلیمی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، سندھ پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، کراچی ریجن کے صدر پروفیسر آصف منیر اور دیگر رہنماؤں نے بورڈ آفس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تعلیم پر حملہ قرار دیا ہے،
سپلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایجنٹ مافیا طویل عرصے سے طلبہ سے بھتہ وصول کرنے اور غیر قانونی امتحانی فارم جمع کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے جس کے انکار پر بورڈ ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہوں نے وزیر جامعات سے مطالبہ کیا کہ بورڈ ملازمین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور صوبائی وزیر کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں،
دوسری جانب سندھ ٹیچرز فورم اور آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن (ایپکا) بی آئی ای کے یونٹ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور امتحانی مراکز پر سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، ادھر صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری اور چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تین روز میں رپورٹ پیش کرے گی، بورڈ ترجمان نے واضح کیا ہے
کہ ملازمین نے طلبہ پر تشدد نہیں کیا بلکہ منظم گروہ نے بورڈ پر حملہ کیا جس میں کئی ملازمین زخمی ہوئے، ترجمان کے مطابق آخری تاریخ گزرنے کے باوجود بعض عناصر زبردستی فارم جمع کرانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر تصادم ہوا، تعلیمی تنظیموں اور بورڈ حکام نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

