لاہور (خصوصی رپورٹ) اندرونِ شہر کی معروف اور قدیمی درسگاہ، گورنمنٹ فاطمہ جناح گریجویٹ کالج برائے خواتین (چونا منڈی) کو اچانک خالی کرنے کے سرکاری احکامات نے تعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ حکام کی جانب سے کالج انتظامیہ کو صرف 48 گھنٹے (2 روز) کی مہلت دی گئی ہے، جس کے خلاف اساتذہ اور طالبات سڑکوں پر نکل آئیں۔
احتجاج اور نعرے بازی
گزشتہ روز کالج کی طالبات اور اساتذہ نے اس فیصلے کے خلاف کالج کے باہر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “کالج بچاؤ، تعلیم بچاؤ” اور “منتقلی نامنظور” کے نعرے درج تھے۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی سیشن کے وسط میں اس طرح کا اچانک حکم نہ صرف طالبات کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے ہزاروں طالبات کی تعلیم منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔
تاریخی پس منظر اور اہمیت
گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج لاہور کی ایک تاریخی حویلی (دھیان سنگھ کی حویلی) میں قائم ہے، جو اپنی قدامت اور طرزِ تعمیر کے باعث عالمی شہرت رکھتی ہے۔ یہ ادارہ عرصہ دراز سے اندرونِ لاہور کی غریب اور متوسط طبقے کی طالبات کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس کالج کی منتقلی سے علاقے کی خواتین کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے۔
انتظامیہ اور مظاہرین کے مطالبات
کالج انتظامیہ اور اساتذہ یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
- کالج کی منتقلی یا خالی کرنے کے احکامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
- اگر عمارت کی مرمت مقصود ہے تو اسے طالبات کی تعلیم کو متاثر کیے بغیر مرحلہ وار مکمل کیا جائے۔
- تاریخی درسگاہ کی حیثیت کو برقرار رکھا جائے اور اسے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

