Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایچ ای سیبیرون ملک مقیم اسکالرز کے لیے ایچ ای سی کی نئی پالیسی،...

بیرون ملک مقیم اسکالرز کے لیے ایچ ای سی کی نئی پالیسی، جرمانے اور حراساں کرنے پر پابندی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی اسکالرز کے لیے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت، پر بیرون ملک پڑھنے والے پی ایچ ڈی اسکالرز اگر ناکام ہوجاتے ہیں تو انہیں جرمانہ نہیں دینا ہوگا اور اگر وہ مقررہ وقت میں ڈگری مکمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں حراساں بھی نہیں کیا جائے گا۔

نئی پالیسی کی اہم خصوصیات

  • جرمانے کا خاتمہ: اگر اسکالر ناکام ہو جاتا ہے تو اسے جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
  • حراساں کرنے پر پابندی: اسکالرز کو مطلوبہ وقت میں ڈگری مکمل نہ کرنے کی صورت میں ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
  • حلف نامے میں ترامیم: اسکالرز سے دستخط کروانے والے حلف نامے میں ترامیم کی جائیں گی۔
  • قانونی چارہ جوئی کا خاتمہ: ناکام ہونے والے اسکالرز کے واپس آنے پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جائے گی۔
  • بانڈ کی شرائط میں تبدیلی: اسکالرز کے لیے بانڈ کی شرائط اور پانچ سال کی پابندی پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے۔
  • سخت جرمانے: تاہم، ان اسکالرز کو سخت جرمانوں کا سامنا ہوگا جو ناکام ہو جائیں لیکن بیرون ملک روزگار اور رہائش کے لیے سکونت اختیار کر لیں۔

وجوہات

ایچ ای سی کے مطابق، پوری دنیا میں پی ایچ ڈی اسکالرز کے فیل ہونے کی شرح 50 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف 5 فیصد ہے۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ اسکالرز کو ہراساں کرنے اور جرمانے لگانے سے ان کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور وہ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مزید تفصیلات

ایچ ای سی نے بیرون ملک بھیجے گئے 100 سے زائد مفرور اور ناکام اسکالرز سے جرمانے کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرنے ہیں۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد ان اسکالرز کو جرمانے سے استثنیٰ ملنے کی امید ہے۔ ایچ ای سی کا یہ اقدام پاکستانی اسکالرز کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے اور امید ہے کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔