Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزپشاور, درسی کتب کا بحران برقرار، سرکاری نصاب کی اوپن مارکیٹ میں...

پشاور, درسی کتب کا بحران برقرار، سرکاری نصاب کی اوپن مارکیٹ میں غیر قانونی فروخت کا انکشاف

پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے باوجود درسی کتب کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکولوں کے ہزاروں طلبہ نصابی کتب سے محروم ہیں، تو دوسری جانب مارکیٹ میں سرکاری کتب کی غیر قانونی خرید و فروخت کا سلسلہ عروج پر ہے، جسے روکنے میں انتظامیہ مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

انتظامیہ کی نااہلی اور کتب کی قلت: تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کتابیں نہ ملنے کے باعث تعلیمی سرگرمیوں میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ مارکیٹ میں نصابی کتابیں نایاب ہیں، جس نے والدین اور اساتذہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کتب کی بروقت فراہمی اور بلیک مارکیٹنگ روکنے کے دعووں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔

پرائیویٹ اداروں کو مبینہ سپلائی: ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے لیے مختص نصابی کتب مبینہ طور پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو فراہم کی جا رہی ہیں، جس پر عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ محکمہ تعلیم کے بعض عناصر کی ملی بھگت سے سرکاری اسٹاک کو نجی اسکولوں اور اوپن مارکیٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں متاثر: کتابوں کی عدم دستیابی سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت “تعلیمی ایمرجنسی” کے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری طرف غریب طلبہ کو بنیادی درسی کتب تک میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کتب کی غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور سرکاری اسکولوں میں کتابوں کا کوٹہ فوری طور پر پورا کیا جائے۔