اساتذہ کی 5 مختلف درجوں میں تقسیم، تدریسی معیار اور علم کی گہرائی جانچنے کے لیے امتحانات اور انٹرویو ہوں گے
پشاور (نیوز رپورٹر) صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام اساتذہ کے لیے “ٹیچنگ لائسنس” حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ نئی قانون سازی کے تحت اب صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانے کے لیے لائسنس کا حصول ناگزیر ہوگا۔
لائسنسنگ اور درجہ بندی کا طریقہ کار: ذرائع کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت اساتذہ کو پانچ مختلف درجوں (Categories) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ درجے اساتذہ کی تعیناتی کی سطح یعنی پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری کے مطابق ہوں گے۔ لائسنس کے حصول کے لیے اساتذہ کو درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوگا:
- تحریری امتحانات: مختلف مراحل میں اساتذہ کے علم کی گہرائی کو جانچنے کے لیے امتحانات لیے جائیں گے۔
- انٹرویو: پیشہ ورانہ رویے اور کمیونیکیشن سکلز کو جانچنے کے لیے انٹرویوز کا انعقاد ہوگا۔
- کلاس روم مانیٹرنگ: اساتذہ کے تدریسی معیار اور کلاس روم تکنیک کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسکولوں میں صرف وہی اساتذہ پڑھائیں جو تدریس کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتے ہوں۔ اس قانون سازی سے اساتذہ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر ہوگا۔

