کراچی (نیوز ڈیسک)
آسٹریلیا میں کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے اور انہیں ان پلیٹ فارمز سے دور رکھنے کے لیے حکومتی سطح پر ایک بڑا اور سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے بچوں کے تحفظ کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے جرمانے کی رقم کو دگنا کرنے کی نئی تجویز پیش کر دی ہے۔
عالمی جریدے “دی گارڈین” کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلوی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے قانون کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی یا بچوں کو فلٹر کرنے میں ناکام رہنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں پر اب 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک کا بھاری جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو کہ سابقہ مقررہ جرمانے سے دوگنا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس سخت قانون اور جرمانے کی رقم میں غیر معمولی اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے خاطر خواہ اور تسلی بخش اقدامات نہیں کر رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت اور ان کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور جو کمپنیاں آسٹریلوی قوانین کے مطابق بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی سے روکنے میں ناکام رہیں گی، انہیں اب بھاری مالیاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بل کی منظوری کے بعد آسٹریلیا دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر سب سے سخت ڈیجیٹل قوانین نافذ کرنے والے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔
راولپنڈی (این این آئی) آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت سابق…
کراچی (نیوز ڈیسک) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے سیکیورٹی انچارج پر ہونے والے قاتلانہ…
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ایریزونا میں اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل…
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد…