اہم ترین

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو سعودی جامعہ سے1300 کمپیو ٹرز فراہم کیےجائیں گے،صدر جامعہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد...

لاہور کے گرلز کالجز کے درمیان وزیر اعلیٰ پنجاب کی تصاویر بنانے کا پینٹنگ مقابلہ

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایت...

ایچ ای سی نے سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)ائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے...

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان(نمائندہ خصوصی)گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر...

ازبکستان کے ساتھ تعلیم، سائنس، تحقیق، مصنوعی ذہانت پر تعاون بڑھائیں گے،وجیہہ قمر

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک، بالخصوص ازبکستان کے ساتھ تعلیم، سائنس، تحقیق، مصنوعی ذہانت اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔ تعلیم محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور روشن مستقبل کے لیے ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقدہ بین الاقوامی تعلیمی فورم 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فورم کا موضوع ’’وسطی ایشیا میں مشترکہ تعلیمی نظام کی تشکیل اور بین الاقوامی تعاون‘‘ تھا۔ وزیرِ مملکت نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کی تعلیمی اصلاحات اور سائنس و جدت کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا

ہنر مند نوجوان ملک کا مستقبل ہیں،پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود

کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت، مذہبی اقدار اور صدیوں پر محیط علمی ورثے پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمرقند، بخارا اور تاشقند تاریخی طور پر علم و دانش کے عظیم مراکز رہے ہیں اور دونوں ممالک اس مشترکہ ورثے کو جدید تعلیمی و سائنسی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان تعلیم کے فروغ، نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی تعلیمی ایمرجنسی کے تحت اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے، معیارِ تعلیم بہتر بنانے اور بالخصوص بچیوں کے لیے مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی نے عالمی تعلیمی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ مستقبل میں وہی اقوام ترقی کریں گی جو اپنے نوجوانوں کو جدید علم، تحقیق اور عملی مہارتوں سے آراستہ کریں گی۔ وزیرِ مملکت نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں، مشترکہ ڈگری پروگراموں، تعلیمی اسناد کی باہمی منظوری اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وی سی پنجاب یونیورسٹی اور ملازمین ایسوسی ایشن کے درمیان اہم ملاقات، رکی ہوئی مراعات اور مسائل کے حل پر پیشرفت

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، طب، زراعت، معدنیات، قابلِ تجدید توانائی اور زبانوں کی تعلیم ایسے اہم شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وجیہہ قمر نے علاقائی تعلیمی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور محققین کے تبادلوں میں اضافہ، جامعات اور صنعتوں کے درمیان روابط کا استحکام اور خواتین و محروم طبقات کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی مشترکہ تعلیمی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’’تعلیمی تعاون کی کامیابی کا اصل پیمانہ معاہدوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں نوجوانوں کی زندگیوں میں آنے والی مثبت تبدیلی ہے۔‘‘ وزیرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان ازبکستان، وسطی ایشیائی ممالک، ترکیہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلیم، تحقیق اور جدت پر مبنی پائیدار تعاون کے لیے تیار ہے۔

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کو عملی تعلیمی، سائنسی اور تحقیقی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ وزیرِ مملکت کے ہمراہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق بھی فورم میں شریک تھے۔