پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے اساتذہ اور تعلیمی عملے کے لیے ایک بڑا ریلیف سامنے آیا ہے، جس کے تحت ایک ہی تعیناتی پر دو سال کی مدت مکمل ہونے سے قبل کیے جانے والے ملازمین کے تبادلوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ٹرانسفر آرڈرز فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
واقعات کے مطابق محکمہ تعلیم کی اس پالیسی کو چیلنج کیے جانے کے بعد سیکرٹری تعلیم نے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ تبادلہ احکامات کی معطلی کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلے سے متاثرہ اساتذہ، سینئر کلرکس اور دیگر تعلیمی عملے کو فوری ریلیف ملا ہے اور سیکرٹری تعلیم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان تمام ملازمین کے تبادلے فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
واضح رہے کہ متعدد ملازمین نے ان تبادلوں کے خلاف خیبرپختونخوا سروس ٹربیونل سے رجوع کیا تھا، جہاں اپیلیٹ اتھارٹی نے کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملازمین کے حق میں فیصلہ سنایا، جس کے نتیجے میں محکمہ تعلیم کو اپنے احکامات واپس لینا پڑے۔ اگرچہ محکمہ تعلیم کا مؤقف تھا کہ یہ تبادلے دو سالہ ٹینور پالیسی اور انتظامی ضروریات کے تحت کیے گئے تھے، لیکن ملازمین نے مؤقف اختیار کیا کہ مقررہ مدت سے پہلے تبادلہ قواعد و ضوابط کے سراسر منافی ہے۔
سیکرٹری ایجوکیشن کی جانب سے جاری نئے حکم نامے کے بعد تمام ملازمین کو ان کی سابقہ تعیناتیوں پر برقرار رکھا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ہزاروں ملازمین کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے مستقبل میں تبادلوں کی پالیسی، ملازمین کے سروس حقوق اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وائس چانسلر پر انتظامی، مالی،…
لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے کرپشن انکوائریوں کا سامنا کرنے والے عناصر کے…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ہدایت پر یونیورسٹیز سے الحاق ) رکھنے…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) پشاور یونیورسٹی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ…
تعلیمی بورڈ لاہور میں ٹھیکیداری نظام کے باعث معاونین 3 اور گارڈز2 ماہ کی تنخواہوں…
بینک عملے کی ہوشیاری سے فراڈ کی کوشش ناکام، ملزمہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل…