ملتان (پ ر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کو چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں ضم کرنے کی زیرِ غور تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی مفادات کے خلاف قرار دے دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ انضمام ادارہ جاتی خودمختاری کے خلاف ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا ایک اہم اور فعال تعلیمی یونٹ ہے، جس نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تدریس، تحقیق، کمیونٹی سروس اور پیشہ ورانہ تربیت کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اس فیکلٹی کی علیحدگی یا انضمام نہ صرف طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ یونیورسٹی کی مجموعی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔
اس سلسلے میں 2 جون 2026ء کو اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر علی اعظم اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسان خان نے فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات فیکلٹی کے ڈین، مختلف شعبہ جات کے چیئرمینز اور فیکلٹی ممبران سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران شرکاء نے مجوزہ انضمام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف منظم اور مؤثر انداز میں آواز بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بعد ازاں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متفقہ طور پر درج ذیل فیصلے اور مطالبات سامنے آئے
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی موجودہ شناخت اور حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔ اعلامیے کے آخر میں سخت انتباہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فیکلٹی کو ختم کرنے یا اس کے انضمام کے عمل کو نہ روکا گیا، تو ایسوسی ایشن اپنے احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوگی۔
کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سیکریٹری محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ ندیم الرحمٰن میمن کی زیر صدارت…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) انجینئرنگ یونیورسٹی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ کی…
کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی سرکاری جامعات میں اساتذہ،…
پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ اسکیم کے دائرہ کار میں…
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کے نجی تعلیمی اداروں (پرائیویٹ اسکولوں) کو مخصوص شرائط…