کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی سرکاری جامعات میں اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کی حاضری، تدریسی نظم و ضبط اور انتظامی نگرانی کے نظام میں انقلابی اور بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبے کی پانچ بڑی سرکاری جامعات میں بائیومیٹرک حاضری، کلاس رومز کی ڈیجیٹل نگرانی اور مرکزی ڈیٹا انٹیگریشن پر مشتمل ایک جامع ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
کمیشن نے اس اہم منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سندھ حکومت کے محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تکنیکی معاونت اور ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے لیے سمری ارسال کر دی ہے۔
سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، احتساب اور مؤثر انتظامی نگرانی کو فروغ دینے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
منصوبے کے بنیادی خدوخال درج ذیل ہیں
راولپنڈی (این این آئی) آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت سابق…
کراچی (نیوز ڈیسک) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے سیکیورٹی انچارج پر ہونے والے قاتلانہ…
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ایریزونا میں اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل…
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد…