کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی سرکاری جامعات میں اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کی حاضری، تدریسی نظم و ضبط اور انتظامی نگرانی کے نظام میں انقلابی اور بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبے کی پانچ بڑی سرکاری جامعات میں بائیومیٹرک حاضری، کلاس رومز کی ڈیجیٹل نگرانی اور مرکزی ڈیٹا انٹیگریشن پر مشتمل ایک جامع ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
کمیشن نے اس اہم منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سندھ حکومت کے محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تکنیکی معاونت اور ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے لیے سمری ارسال کر دی ہے۔
سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، احتساب اور مؤثر انتظامی نگرانی کو فروغ دینے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
منصوبے کے بنیادی خدوخال درج ذیل ہیں
وی سی گومل یونیورسٹی کو 3 ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا؛ یونیورسٹی…
ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام ختم، قیمتی سرکاری سامان غائب؛ 23 ملازمین فارغ دو گاڑیاں، ڈرون، ڈی…
پہلے ٹیسٹ میں 31 ہزار سے زائد طلبہ شریک ہوئے؛ داخلوں کے لیے دوسرا انٹری…
تیس جون تک واجب الادا تمام پنشن اور کمیوٹیشن کی رقوم آئندہ مالی سال میں…
وفاقی اردو یونیورسٹی کا بحران سنگین ترین: مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام، ایک طرف…
نیشنل اسکل کمپی ٹینسی ٹیسٹ میں طلبہ کی بڑی اکثریت فیل؛ سندھ کی 10 یونیورسٹیاں…