کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی سرکاری جامعات میں اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کی حاضری، تدریسی نظم و ضبط اور انتظامی نگرانی کے نظام میں انقلابی اور بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبے کی پانچ بڑی سرکاری جامعات میں بائیومیٹرک حاضری، کلاس رومز کی ڈیجیٹل نگرانی اور مرکزی ڈیٹا انٹیگریشن پر مشتمل ایک جامع ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
کمیشن نے اس اہم منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سندھ حکومت کے محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تکنیکی معاونت اور ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے لیے سمری ارسال کر دی ہے۔
سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، احتساب اور مؤثر انتظامی نگرانی کو فروغ دینے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
منصوبے کے بنیادی خدوخال درج ذیل ہیں
اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ…
حکومتِ سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن…
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) حکومتِ پنجاب نے صوبے کے طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی…
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو…
پنجاب میں تعلیم دوست اقدام: ’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے…
اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر…