نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست نیویارک کے ایک سکول میں جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس انسانی روبوٹ کو بطور تدریسی معاون متعارف کرایا گیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 57,600 امریکی ڈالرز ہے۔
یہ روبوٹ ابتدائی مرحلے میں 11ویں اور 12ویں جماعت کے طلبہ کو کوڈنگ، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید مضامین سکھانے میں اساتذہ کی مدد کرے گا۔ انسانی مشابہت رکھنے والے اس روبوٹ کی مصنوعی جلد، لمبے بھورے بال اور متحرک ہاتھ ہیں، تاہم یہ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اس کی ٹانگیں ایک ہی جگہ نصب ہیں۔
اسکول انتظامیہ کے مطابق، روبوٹ کا بنیادی مقصد اساتذہ کی جگہ لینا ہرگز نہیں بلکہ تدریسی عمل کو زیادہ فعال بنانا اور طلبہ میں نئی ٹیکنالوجی کا شوق پیدا کرنا ہے۔ روبوٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طلبہ کو تیار شدہ جوابات دینے کے بجائے انہیں خود سوچنے اور مسائل حل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
طلبہ اور اساتذہ کی پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نظام کو انٹرنیٹ سے الگ رکھا گیا ہے۔ یہ روبوٹ کسی بھی طالب علم کی ذاتی معلومات جمع کرتا ہے اور نہ ہی آواز یا ویڈیو ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر اس جدید قدم پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، تاہم اسکول انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ انسانی اساتذہ اور طلبہ کا براہِ راست تعلق ہی تعلیم کی بنیاد رہے گا، جبکہ یہ روبوٹ محض ایک اضافی تعلیمی مددگار کے طور پر کام کرے گا۔
فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد نے چیئرمین بورڈ…
راولپنڈی (نمائندہ حصوصی) محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں کی نجکاری کے چوتھے فیز کی منظوری…
کراچی (ایجو کیشن رپورٹر)سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے شعبہ سپورٹس کے…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کے محکمہ آرکائیوز اینڈ لائبریریز کے چیف لائبریرین ڈاکٹر محمد…
خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلےسائیکلنگ بچوں کی جسمانی صحت،…
تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت کی طالبات نے ریڈیو پاکستان تربت…