لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب کے سرکاری پرائمری اسکولوں کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کا مضمون شامل کرنے کا منصوبہ تاحال حتمی شکل اختیار نہ کر سکا، جس کے باعث نئے تعلیمی سال کی نصابی کتب کی تیاری اور چھپائی کا عمل شدید التواء کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کا بورڈ آف گورنرز پہلی سے پانچویں جماعت تک اے آئی کا مضمون پڑھانے کی منظوری تو دے چکا ہے، تاہم ادارے کی جانب سے اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے کتب کی اشاعت کا کام رُک گیا ہے۔
سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ پرائمری اسکولوں میں کمپیوٹر اور اے آئی لیبز سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اے آئی کو ایک مستقل مضمون کے طور پر پڑھانے کے لیے اسکولوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے نئی لیبز قائم کرنا ہوں گی، جو موجودہ صورتحال میں ایک بڑا مالیاتی چیلنج ہے۔
اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی کے باعث اب یہ تجویز زیر غور ہے کہ فی الوقت اے آئی کو ایک الگ مضمون کے بجائے نصاب میں محض ایک چیپٹر (باب) کے طور پر شامل کر لیا جائے تاکہ طلبہ کو ابتدائی مفاہیم سے روشناس کرایا جا سکے۔
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے حکام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پرائمری کی سطح پر اے آئی کی تدریس کے تمام تکنیکی اور مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تمام معاملات طے پاتے ہی جلد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا، جس کے بعد کتابوں کی چھپائی کا مرحلہ شروع ہوگا۔
کراچی میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ: اسکولوں کی طالبات سڑکوں پر نکل آئیں، 18 گھنٹے…
کراچى (اسپيشل رپورٹر) سندھ کی سرکاری جامعات میں موجودہ وائس چانسلرز کی مدتِ ملازمت میں…
اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع احتجاج اور…
لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیرِ اہتمام اور ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور…
لاہور (ویب ڈیسک )بے روزگاری کا شاخسانہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا ٹاپر ڈگری حاصل کرنے…
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر ) یو ای ٹی لاہور میں ہائیر ایجوکیشن ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ …