ایچ ای سی کا نیا آن لائن ڈگری تصدیقی نظام ‘عذاب’ بن گیا، آئی ٹی حکام کی نااہلی سے پورا سسٹم فلاپ

کراچی کی اسناد پشاور، لاہور کی کوئٹہ منتقل؛ تصدیق کرنے والے افسر اور امیدوار دونوں ہی لاعلم، شدید تاخیر سے طلبہ خوار ہو گئے

ہنگامی تصدیق کے لیے ‘ارجنٹ آپشن’ ہی غائب، فیس جمع ہونے کے بعد ڈگری کہاں غائب ہوئی؟ کوئی بتانے والا نہیں، پرنٹ نکالنا بھی خواب بن گیا

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے اسناد کی تصدیق کے عمل کو تیز، آن لائن اور پیپر لیس بنانے کا دعویٰ بری طرح دم توڑ گیا۔ آئی ٹی حکام کی عدم دلچسپی اور سنگین غفلت کے باعث نیا ڈیجیٹل نظام امیدواروں کی سہولت کے بجائے ان کے لیے ذہنی عذاب بن چکا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر کے ہزاروں امیدوار شدید مشکلات اور خوارِ زار کا شکار ہو گئے ہیں۔

سسٹم کا بلنڈر: کراچی کی ڈگریاں پشاور اور لاہور کی کوئٹہ روانہ

انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئے آن لائن نظام میں اس قدر ٹیکنیکل خامیاں اور بلنڈرز موجود ہیں کہ فیس جمع کرانے کے بعد نہ تو امیدوار کو کچھ پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی ایچ ای سی حکام کو علم ہوتا ہے کہ اسناد کی تصدیق کون سا افسر اور کس شہر سے کر رہا ہے۔ آن لائن نظام کا یہ حال ہے کہ کراچی کے امیدواروں کی اسناد تصدیق کے لیے کراچی کے بجائے پشاور اور لاہور بھیجی جا رہی ہیں، جبکہ لاہور اور پشاور کے طلبہ کا ڈیٹا کراچی اور کوئٹہ کے دفاتر میں ٹرانسفر ہو رہا ہے۔ دوسرے صوبوں میں بیٹھے تصدیقی افسران ان اسناد کو دوبارہ متعلقہ شہروں کی جامعات کو بھیجتے ہیں، جس کے نتیجے میں فائلوں کے اس چکر ویو میں تصدیق کا عمل مہینوں کی تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔

آن لائن پرنٹ نکالنا بھی ناممکن

ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر کوئی امیدوار تمام تر دھکے کھانے اور طویل انتظار کے بعد تصدیق کا عمل مکمل کروا بھی لے، تو نیا آن لائن نظام اسے تصدیق شدہ اسناد کا آن لائن پرنٹ نکالنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، جس کے باعث امیدواروں کی فیسیں اور وقت دونوں ضائع ہو رہے ہیں۔

ارجنٹ تصدیق کی کوئی شق ہی موجود نہیں!

اس نئے نام نہاد پیپر لیس نظام میں سب سے زیادہ دلچسپ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر کسی امیدوار کو بیرونِ ملک روانگی، نوکری یا کسی ایمرجنسی کی وجہ سے ہنگامی بنیادوں پر اسناد کی تصدیق درکار ہو، تو سسٹم میں ایسی کوئی ونڈو یا شق ہی نہیں رکھی گئی جہاں وہ ‘ارجنٹ فیس’ ادا کر کے اپنی اسناد جلد حاصل کر سکے۔ ارجنٹ آپشن نہ ہونے سے طلبہ کے پاسپورٹ، ویزے اور نوکریوں کے اہم مواقع ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ڈی جی اٹیسٹیشن حضرت بلال کا مؤقف

دوسری جانب جب اس سنگین صورتحال پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے تصدیقِ اسناد (ڈی جی اٹیسٹیشن) حضرت بلال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے روایتی مؤقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسناد کی تصدیق کا یہ نیا آن لائن عمل بنیادی طور پر امیدواروں کی آسانی اور سہولت کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ انہیں دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں، تاہم تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئی ٹی حکام کی نااہلی نے ڈی جی کے ان دعووں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

تعلیمی سرگرمیاں بحال، ڈی سی لاہور کا گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شاہراہ ایوانِ تجارت کا دورہ

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی موسم گرما کی…

5 hours ago

پشاور یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ ڈگری ہولڈرز کے لیے بی ایس 5th سمسٹر اور بی ایڈ کے داخلے جاری

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADA /…

5 hours ago

چھٹیوں کے بعد پنجاب بھر میں تعلیمی سرگرمیاں بحال، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا طلباء کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر میں تعطیلات کے بعد تعلیمی سلسلہ معمول کے مطابق بحال…

6 hours ago

غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے

غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے طلباء…

6 hours ago

معروف شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم اصغر اسد جعفری 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

لاہور (سپیشل رپورٹر) معروف شاعر، ادیب اور نامور ماہرِ تعلیم اصغر اسد جعفری طویل علالت کے…

1 day ago

میرپور خاص، محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیاں، صوبائی وزیر تعلیم کا نوٹس، 4 رکنی انکوائری کمیٹی قائم

میرپور خاص: محکمہ تعلیم میں گریڈ 16 کی جعلی بھرتیوں کا ڈراپ سین، صوبائی وزیر…

1 day ago