پشاور (نیوز رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مالی سال 25-2024 کی سالانہ جائزہ رپورٹ نے خیبر پختونخوا کی جامعات کی کارکردگی پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملک بھر کی 95 جامعات کے جائزے میں صوبے کی کوئی بھی جامعہ اعلیٰ ترین درجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ متعدد جامعات درمیانی یا کمزور کارکردگی کے درجے میں شامل رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ملک بھر کی صرف 7 جامعات نے اعلیٰ ترین ‘درجہ ڈبلیو’ حاصل کیا ہے، جبکہ 38 جامعات ‘درجہ ایکس’ اور 43 جامعات ‘درجہ وائی’ میں رہیں، اور 7 جامعات کو کمزور کارکردگی کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خیبر پختونخوا کی جامعات کی درجہ بندی درج ذیل رہی
ذرائع کے مطابق یہ جائزہ صرف تدریسی معیار تک محدود نہیں ہے، بلکہ جامعات میں تحقیق، نئے منصوبوں، صنعتوں کے ساتھ روابط، اختراعات، تحقیقی منصوبوں اور علمی پیداوار کو جانچتا ہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ صوبے کی صرف تین جامعات درمیانی درجے تک محدود رہیں، جبکہ تین جامعات کمزور کارکردگی کی فہرست میں شامل ہو گئیں۔
| کارکردگی کا درجہ | جامعات کی تعداد | خیبر پختونخوا کی جامعات کی صورتحال |
|---|---|---|
| اعلیٰ ترین (درجہ ڈبلیو) | 07 | صوبے کی کوئی بھی یونیورسٹی شامل نہیں ہو سکی |
| بہتر (درجہ ایکس) | 38 | — |
| درمیانی (درجہ وائی) | 43 | اسلامیہ کالج پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی، جامعہ پشاور |
| کمزور کارکردگی | 07 | باچا خان یونیورسٹی، شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سوات |
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو…
پنجاب میں تعلیم دوست اقدام: ’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے…
اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر…
پشاور (ایجوکیشن رپورٹر) خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے سیکنڈری سکول ٹیچر کے…
کے پی میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی انتظامی ساخت میں بڑی تبدیلی: ابتدائی…
کراچی(ایجو کیشن رپورٹر) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے دسویں جماعت سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات…