کوئٹہ(ایجو کیشن رپورٹر)
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبائی حکومت نے ریاست میں غیر رسمی تعلیم کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس کے دوران طے پایا کہ صوبے کے وہ 18 لاکھ بچے (عمر 9 تا 16 سال) جو مختلف وجوہات کی بنا پر رسمی تعلیمی نظام کا حصہ نہ بن سکے یا تعلیم سے محروم رہ گئے، انہیں دوبارہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
مرکزی توجہ اور حکومتی حکمتِ عملی
اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان نے بتایا کہ:
8 ارب روپے کا 5 سالہ منصوبہ
چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت ایک اہم منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے:
(ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سپورٹس میں طالبات کو مبینہ طور پر…
پی ٹی سی اور ایس ڈی پلانز، ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام اور ابتدائی تعلیم سے متعلق…
جامعہ پشاور: صوبائی گرانٹ کی منتقلی سے مالی بحران ٹل گیا، ملازمین کی تنخواہیں اور…
پشاور بورڈ نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026ء کے نتائج کا اعلان کر دیا نتائج 4…
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی دونوں ہاتھوں سے معذور ہونہار طالب علم رفیع اللہ…
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی: بارہویں جماعت پری میڈیکل، آرٹس اور ہوم اکنامکس کے نتائج…