اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ملک میں ریسرچ، سائنسی ترقی اور جامعات کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے اعلیٰ تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی گئی ہے۔ اس فنڈ کا مقصد نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سائنسی اور تحقیقی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل اور صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکے۔
نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے اور شرحِ خواندگی میں اضافے کے لیے حکومت نے بنیادی تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ (ووکیشنل و ٹیکنیکل ٹریننگ) کے لیے 22 ارب روپے کا فنڈ رکھا ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے ملک بھر میں پرائمری و سیکنڈری اسکولوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مختلف فنی علوم (Skills) سکھائے جائیں گے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کا فعال حصہ بن سکیں۔
سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جدید بنانے، شفافیت لانے اور نظامِ حکومت کو بہتر کرنے کے لیے بجٹ میں گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کی مد میں 13 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ مضبوط اور شفاف ادارے ہی کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں، اس لیے اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کو یقین دلایا کہ ان فنڈز کا شفاف اور بروقت استعمال یقینی بنایا جائے گا تاکہ تعلیمی اور انتظامی شعبوں میں دور رس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
نئی دہلی (مونیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں، دھاندلی اور پیپر لیکس…
جامعات، حکومت اور ترقیاتی شعبے کا باہمی تعاون عصر حاضر کے سماجی چیلنجز سے نمٹنے…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے بی ایس سیشن 2018-2022 کے لیے سالانہ…
مردان (نمائندہ خصوصی) وومنز یونیورسٹی مردان میں ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کا چھٹا اجلاس…
چترال (نمائندہ خصوصی) جامعہ چترال کے سینیٹ کا دسویں اجلاس صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم…
امتحانی نظام کو مزید شفاف بنانے اور سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے…